ذکر حبیب — Page 33
33 ایک لفافہ میں پانچ سور و پیہ قریب ۱۸۹۳ء) ایک دفعہ حضرت صاحب نے اُن تین چار خُدّام کو جو اُس وقت قادیان میں حاضر تھے فرمایا تھا کہ ہم بہت دن بیمار رہے۔اِن ایام میں خطوط جو ڈاک میں آئے ہیں ، پڑھنے کی فرصت نہیں ہوئی اور بہت سی ڈاک جمع ہو گئی ہے۔آپ لوگ اس کو کھول کر پڑھ لیں اور جن کے جواب لکھنے ضروری ہوں مجھ سے پوچھ کر لکھ دیں۔چنانچہ خُدام اِس کام میں مصروف ہو گئے۔اسی کے درمیان ایک لفافہ جو کھولا گیا تو اُس میں سے مبلغ پانچ سو روپے کے نوٹ نکلے جو کسی خادم نے حضور کے لئے ایک سادہ لفافے میں ڈال کر بھیج دیے تھے۔۱۸۹۴ د گوشامی عالم غالباً ۱۸۹۴ء کے قریب دو عرب شامی جو علوم عربیہ کے ماہر اور فاضل تھے۔قادیان آئے اور ایک عرصہ حضرت مسیح موعود علیہ السّلام کی خدمت میں رہ کر داخل بیعت ہوئے۔ہر دو کا نام محمد سعید تھا اور طرابلس علاقہ شام کے رہنے والے تھے۔اُن میں سے ایک صاحب شاعر بھی تھے۔مالیر کوٹلہ میں ایک ہندوستانی لڑکی کے ساتھ حضرت نواب محمد علی خان صاحب نے ان کی شادی کرادی تھی۔انہوں نے کئی ایک مضامین عربی زبان میں حضرت صاحب کی تائید میں شائع کئے۔بسبب خود شاعر ہونے کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسّلام کے اشعار کے اعلیٰ پیمانہ پر ہونے کے وہ بہت مداح تھے۔وہ کہا کرتے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السّلام کا یہ شعر ( متعلق مولوی محمد حسین بٹالوی) د عجبت لشيخ في البطالة مفسد أَضَلَّ كَثِيرًا بِالشُّرُورِ وَ بَعْدَا جب میں پڑھتا ہوں تو مجھے خواہش ہوتی ہے کاش کہ میرے سارے شعر حضرت صاحب کے ہوتے مگر یہ ایک شعر میرا ہوتا۔یہ عرب صاحب اپنی بیوی کو ساتھ لے کر اپنے وطن چلے گئے تھے اور اس طرح سلسلہ حقہ احمدیہ کی تبلیغ کرتے رہے اور وہاں سے واپس آ کر اپنی بیوی کو مالیر کوٹلہ میں چھوڑ کر کشمیر کے راستہ سے رُوس کی سرحد میں داخل ہو گئے تھے۔پھر پتہ نہیں لگا کہ ان کا کیا حال ہے۔بعض سیاحوں سے جو خبر میں ملتی ہیں کہ روس کے بعض علاقوں میں احمدیت کے سلسلہ کی اشاعت ہو رہی ہے۔ممکن ہے کہ یہ امرا نہی کی کوشش سے ہو دوسرے محمد سعید صاحب نے ایک رسالہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تائید میں تصنیف کیا تھا اور وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک تحریر جو بصورت رسالہ چھپی تھی ساتھ لے کر اپنے