ذکر حبیب

by Other Authors

Page 259 of 381

ذکر حبیب — Page 259

259 فرمایا۔آپ بیمار ہیں۔بیمار کی دعاء بھی قبول ہوتی ہے۔آپ ہماری کامیابی کے واسطے دُعاء کریں۔راقم کے متعلق حضرت صاحب کی ایک تحریر ایک دفعہ اخباری اور اشتہاری مناظرہ میں شیخ محمد چٹو صاحب لاہوری نے عاجز کے متعلق سخت الفاظ استعمال کئے۔جس پر حضرت صاحب نے شیخ صاحب کو ایک نوٹس دیا جو درج ذیل کیا جاتا ہے: بعد دُعاء کے واضح ہو کہ بدر کے اخبار ۲ / جنوری ۱۹۰۷ء نمبرے میں جو میری طرف سے آپ کی طرف ایک مضمون چھپا تھا۔اس کے جواب میں کسی شخص نے اخبار ۲۴ / جنوری کو ایک مضمون طبع کرا کر اور رجسٹری کرا کر میری طرف بھیجا ہے۔اور آخیر پر آپ کا نام لکھ دیا ہے۔گویا اس تحریر کے آپ ہی راقم ہیں۔اور اس میں مجھے مخاطب کر کے یہ اعتراض کیا ہے کہ کس طرح سمجھا جائے کہ یہ آپ کی طرف سے مضمون ہے۔اس پر آپ کے دستخط نہیں۔اور قرآن شریف میں ہے کہ اگر کوئی فاسق یعنی بد کارخبر د یوے۔تو تحقیق کر لینا چاہیے کہ وہ خبر صحیح ہے یا نہیں۔اور اس فقرہ سے کا تب مضمون نے میرے دوست عزیز القدر مفتی محمد صادق ایڈیٹر اخبار کو جو ایک صالح اور متقی آدمی ہیں۔فاسق اور بد کار آدمی قرار دیا ہے۔میں باور نہیں کر سکتا کہ ایسی ناپاک تہمت کا لفظ جس کے رُو سے خود ایسا انسان فاسق ٹھہرتا ہے۔آپ کے منہ سے نکلا ہو۔اور ہر ایک اہل علم کو معلوم ہے کہ شریعت اسلام کا یہ فتوی ہے۔اگر کوئی شخص کسی کو کا فریا فاسق کہے اور وہ اس لفظ کا مستحق نہ ہو۔تو وہ کفر اور فسق اسی شخص کی طرف لوٹ آتا ہے۔اور گورنمنٹ انگریزی کے قانون کی رُو سے بھی کسی کو فاسق یا بد کار کہنا ایسے صاف طور پر ازالہ حیثیت عرفی میں داخل ہے۔کہ ایسا شریر انسان ایک ہی پیشی میں جیل خانہ دیکھ لیتا ہے۔پس کچھ شک نہیں۔کہ اگر مفتی صاحب عدالت میں ازالہ حیثیت عرفی کی نسبت نالش کریں، تو ایسا بد قسمت اور جاہل انسان جس نے ان کی نسبت یہ نا پاک لفظ بولا ہے۔فوجداری جرم میں بے چون و چرا سزا پا سکتا ہے۔مگر آپ پر میں نیک فن کرتا ہوں۔مجھے اُمید نہیں اور ہرگز امید نہیں کہ ایسا لفظ آپ کے منہ سے نکلا ہو۔چونکہ آپ محض ناخواندہ ہیں۔اور بوجہ نا خواندہ ہونے کے اخباروں اور رسالوں کو پڑھ نہیں سکتے۔اس لئے مجھے یقین ہے کہ آپ اس نالائق حرکت سے بری ہیں۔بلکہ کسی خبیث اور نا پاک طبع اور نہایت درجہ کے بدفطرت کا یہ کام ہے کہ بغیر تفتیش کے نیکوں اور راستبازوں کا نام بد کار اور فاسق لکھتا ہے۔میں اُمید رکھتا ہوں کہ آپ مجھے براہ مہربانی اطلاع دیں گے کہ کس پلید طبع اور بدفطرت کے منہ سے یہ کلمہ نکلا ہے۔حالانکہ مفتی صاحب چاہیں۔تو عدالت میں چارہ جوئی کریں۔