ذکر حبیب

by Other Authors

Page 10 of 381

ذکر حبیب — Page 10

10 لکھتا ہوں۔نے مجھے مجبور کیا ہے۔لہذا نہایت ادب کے ساتھ معافی مانگتا ہوا چند ایک سطریں کا میں قریباً چار سال سے آپ کے قدم پکڑے ہوئے ہوں اور آپ کی صداقت پر دل سے ایمان لایا ہوں۔پیشتر اس کے کہ کوئی پیشگوئی پوری ہوتی ہوئی یا کوئی نشان ظاہر ہوتا ہوا دیکھوں، اب ایک بے نظیر نشان کے ظاہر ہونے کا وقت آ پہنچا ہے۔میں اپنی تمام دُعاؤں اور خواہشوں کو ترک کر کے رات دن خداوند کے حضور میں یہی دُعا کر رہا ہوں کہ اے رحمن رب تیرے بندے ضعیف اور کوتاہ اندیش ہیں۔ایسے وعدے کو تو کھلے کھلے طور سے پو را کرتا کہ لوگ اپنی نادانی سے تیرے فرستادہ کا انکار کر کے اپنے گلوں میں لعنت کا طوق نہ ڈال لیں۔مگر ظاہر ہے کہ ایسے موقعوں پر کئی ایک طرح کے ابتلاء پیش آ جایا کرتے ہیں۔اس واسطے میں نہایت عاجزی سے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ میرا ایمان حضور کی صداقت پر پختہ ہے اور اسے ہرگز کوئی جنبش بفضلہ تعالیٰ نہیں۔پیشگوئی کے پورا ہونے کی خبر سننے کی خواہش مجھے محض اس لئے ہے کہ دوسروں کو سُنایا جائے اور اُن پر حجت قائم کی جائے۔ورنہ میں تو اُسی وقت سے اُسے پورا ہو گیا ہوا سمجھتا ہوں جس وقت کہ آپ نے سُنائی تھی۔الغرض کچھ ہی ہوحضور مجھے اپنا غلام اور اپنی جو نتیوں کا خادم سمجھیں اور دُعا سے یا درکھیں۔( محمد صادق مفتی مدرس انگریزی جموں کا لج ) سفر لدھیانہ - غالباً ۱۸۹۱ ء کا ذکر ہے۔میں اُس وقت ریاست جموں کے ہائی سکول میں مدرس تھا۔مدرسہ میں موسم گرما کی رخصتیں ہوئیں تو میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ملاقات کے واسطے جموں سے چلا۔راستہ میں مجھے معلوم ہوا کہ حضرت اقدس قادیان میں نہیں ہیں۔لدھیانہ میں ہیں۔پس میں بھی لدھیا نہ پہنچا۔اُس وقت حضرت صاحب کے ساتھ دو خادم تھے۔ایک حافظ حامد علی صاحب مرحوم اور ایک گنوا ر سا شخص پیراں دتہ نام تھا۔یہ ہر دو آپ کے نج کے خادم تھے جن کو حضور تنخواہ اور کھانا دیتے تھے۔لدھیانہ میں اُس وقت حضور کے خلاف بہت شور تھا جس کی وجہ زیادہ تر مولوی محمد حسین بٹالوی کی مخالفت تھی۔علماء کی طرف سے کفر کے فتوے تا زہ بتازہ لگ رہے تھے۔باوجود اس مخالفت کے کئی لوگ آتے تھے اور بیعت کرتے تھے۔پیر سراج الحق صاحب بھی لدھیانہ میں موجو د تھے اور حضرت صاحب کی بیعت میں داخل ہو چکے تھے۔پیر افتخاراحمد صاحب اور اُن کے خاندان کے سب لوگ بھی وہیں پر تھے اور حضرت صاحب کی خدمت میں مصروف رہتے