ذکر حبیب — Page 205
205 اپنی زبان میں دُعا سوال ہوا کہ آیا نماز میں اپنی زبان میں دُعاء مانگنا جائز ہے۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ سب زبانیں خدا نے بنائی ہیں۔انسان اپنی زبان میں جس کو اچھی طرح سمجھ سکتا ہے۔نماز کے اندر دُعائیں مانگے۔کیونکہ اس کا اثر دل پر پڑتا ہے۔تا کہ عاجزی اور خشوع پیدا ہو۔کلام الہی کو ضرور عربی میں پڑھو۔اور اس کے معنے یاد رکھو، اور دُعاء بے شک اپنی زبان میں مانگو۔جولوگ نماز کو جلدی جلدی پڑھتے ہیں۔اور پیچھے لمبی دُعائیں کرتے ہیں۔وہ حقیقت سے نا آشنا ہیں۔دُعاء کا وقت نماز ہے۔نماز میں بہت دُعائیں مانگو۔“ حاکم کو بُرا نہ کہو ۱۸ مئی ۱۹۰۱ء فرمایا: ''اگر حاکم ظالم ہو۔تو اس کو بُرا نہ کہتے پھرو۔بلکہ اپنی حالت میں اصلاح کرو۔خدا اس کو بدل دے گا۔یا اُسی کو نیک کر دے گا۔جو تکلیف آتی ہے۔وہ اپنی ہی بد عملیوں کے سبب آتی ہے۔ورنہ مومن کے ساتھ خدا کا ستارہ ہوتا ہے۔مومن کے لئے خدا تعالیٰ آپ سامان مہیا کر دیتا ہے۔میری نصیحت یہی ہے ، کہ ہر طرح سے تم نیکی کا نمونہ بنو۔خدا کے حقوق بھی تلف نہ کرو۔اور بندوں کے حقوق بھی تلف نہ کرو۔“ اوروں کو چندہ دینا ۲۰ مئی ۱۹۰۱ء کہیں سے خط آیا۔کہ ہم ایک مسجد بنانا چاہتے ہیں اور تبر کا آپ سے بھی چندہ چاہتے ہیں۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ ”ہم تو دے سکتے ہیں اور یہ کچھ بڑی بات نہیں۔مگر جبکہ خود ہمارے ہاں بڑے بڑے اہم اور ضروری سلسلے خرچ کے موجود ہیں، جن کے مقابل میں اس قسم کے خرچوں میں شامل ہونا اسراف معلوم ہوتا ہے تو ہم کس طرح سے شامل ہوں۔یہاں جو مسجد خدا بنارہا ہے اور وہی مسجد اقصیٰ ہے۔وہ سب سے مقدم ہے۔اب لوگوں کو چاہیے کہ اس کے واسطے روپیہ بھیج کر ثواب میں شامل ہوں۔ہمارا دوست وہ ہے، جو ہماری بات کو مانے نہ وہ کہ جو اپنی بات کو مقدم رکھے۔حضرت ابو حنیفہ کے پاس ایک شخص آیا کہ ہم ایک مسجد بنانے لگے ہیں۔آپ بھی اس میں کچھ چندہ دیں۔اُنہوں نے عذر کیا کہ میں اس میں کچھ نہیں دے سکتا۔حالانکہ وہ چاہتے۔تو بہت کچھ دے دیتے۔اس شخص نے کہا کہ ہم آپ سے بہت نہیں مانگتے صرف تبر کا کچھ دے دیجئے۔آخر انہوں نے ایک دونی کے قریب سکہ دیا۔شام کے وقت وہ شخص دونی لے کر واپس آیا۔اور کہنے لگا