ذکر حبیب

by Other Authors

Page 86 of 381

ذکر حبیب — Page 86

86 سال ۱۹۰۳ء کو دعا سے کامیابی ۲۵ مارچ ۱۹۰۳ء۔فرمایا ہم نے سوچا کہ عمر کا اعتبار نہیں ہے۔ستر ۷۰ سال کے قریب عمر سے گذر چکے ہیں۔موت کا وقت مقرر نہیں خدا جانے کس وقت آ جاوے اور کام ہمارا ابھی بہت باقی پڑا ہے۔ادھر قلم کی طاقت کمزور ثابت ہوئی ہے۔رہی سیف اس کے واسطے خُدا تعالیٰ کا اذن اور منشاء نہیں ہے۔لہذا ہم نے آسمان کی طرف ہاتھ اُٹھائے اور اُسی سے قوت پانے کے واسطے ایک الگ حجرہ بنایا اور خدا سے دُعا کی کہ اس مسجد البیت اور بیت الدعا کو امن اور سلامتی اور اعدا پر بذریعہ دلائل نیزہ اور براہین ساطعہ کے فتح کا گھر بنا۔خلوت میں گفتگو ۱۹۰۳ء۔مقدمہ کرم دین کے ایام میں ایک دن گورداسپور میں بالا خانے پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک چارپائی پر لیٹے ہوئے تھے۔خواجہ کمال الدین صاحب وکیل اور چند دیگر اصحاب نیچے دری پر بیٹھے تھے۔عاجز راقم حضرت صاحب کے پاؤں دبا رہا تھا۔سردی کا موسم تھا۔خواجہ صاحب نے عرض کی کہ چند قانونی امور پر حضوڑ سے گفتگو کرنی ہے۔دوسرے دوست اُٹھ جائیں تا کہ خلوت ہو جائے۔میں بھی اُٹھنے لگا تو حضور نے مجھے فرمایا ”آپ بیٹھے رہیں آپ کے ہاتھ گرم ہو چکے ہیں۔پس میں بیٹھا رہا اور قانونی باتیں پیش ہوتی رہیں اور اُن پر گفتگو ہوتی رہی۔عاجز نے جماعت کرائی ( غالبا ۱۹۰۳ء) ایک سفر میں جبکہ ہم چند خدام حضور مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہمراہ قادیان سے گورداسپور جا رہے تھے اور قادیان سے بہت سویرے ہم سوار ہوئے تھے نماز فجر کے وقت نہر پر پہنچے اور وہاں نماز فجر ادا کی گئی اور حضور کے فرمانے سے عاجز راقم پیش امام ہوا۔پانچ سات آدمی ساتھ تھے۔برآمدہ کچہری میں نماز ( غالباً ۱۹۰۳ء) ایک دفعہ مقدمہ کرم دین میں جبکہ حضرت صاحب کمرہ عدالت میں به سبب سماعت مقدمه تشریف فرما تھے اور نماز ظہر کا وقت گذر گیا اور نماز عصر کا وقت بھی تنگ ہو گیا۔تب حضور نے عدالت سے نماز پڑھنے کی اجازت چاہی اور باہر آ کر برآمدے میں ہی اکیلے ہر دو نمازیں جمع کر کے پڑھیں۔