ذکر حبیب — Page 58
58 سجادہ نشین اور وکیل اور معزز عہدہ دار ہیں بغیر پوری تسلی پانے کے یہ اقرار کر سکتے ہیں کہ ہم نے اس قدر آسمانی نشان بچشم خود دیکھے اور جبکہ وہ لوگ واقعی طور پر ایسا اقرار کرتے ہیں۔جس کی تصدیق کے لئے ہر وقت شخص مکذب کو اختیار ہے تو پھر سوچنا چاہئیے کہ ان مجموعہ اقرارات کا طالب حق کے لئے اگر وہ فی الحقیقت طالب حق ہے کیا نتیجہ ہونا چاہئے۔کم از کم ایک ناواقف اتنا تو ضرور سوچ سکتا ہے کہ اگر اس گروہ میں جولوگ ہر طرح سے تعلیم یافتہ اور دانا اور فرسودہ روزگار اور بفضل الہی مالی حالتوں میں دوسروں کے محتاج نہیں ہیں۔اگر اُنہوں نے پورے طور پر میرے دعوے پر یقین حاصل نہیں کیا اور پوری تسلی نہیں ہوئی تو کیوں وہ اپنے گھروں کو چھوڑ کر اور عزیزوں سے علیحدہ ہو کر غربت اور مسافری میں اس جگہ میرے پاس بسر کرتے ہیں اور اپنی اپنی مقدرت کے موافق مالی امداد میں میرے سلسلہ کے لئے فدا اور دلدادہ ہیں۔ہر ایک بات کا وقت ہے۔بہار کا بھی وقت ہے اور برسات کا بھی وقت ہے اور کوئی نہیں جو خدا کے ارادے ٹال دے۔ایک ہی راہ ۲۳ اکتوبر ۱۸۹۹ء کے اخبار الحکم میں میرے ایک خط کا اقتباس درج ہے جو میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی خدمت میں لکھا تھا۔اس کی نقل درج ذیل ہے۔آج چودھویں صدی کے سر پر اللہ تعالیٰ کا رسول اس کی طرف سے خلقت کے لئے رحمت اور برکت ہے۔خُدا کی رحمت وسیع ہے اور اس کے ہاں بخل نہیں اور نہ اس کا * جو ہمارے درمیان موجود ہے، بخیل ہے، پر کسی کے اپنے ہی عمل خراب ہوں تو وہ اپنے آپ کے سوا اور کسی پر ناراض نہ ہو۔میرے آقا میں جانتا ہوں کہ خدا ایک ہے اور اس کے سوا اور کوئی اللہ (معبود، محبوب، مطلوب ، مطاع ) نہیں۔اس کو راضی کرنے کا دروازہ محمد رسول اللہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ اس کے سوا کوئی راہ نہیں۔جو خدا تک لے جاوے۔اللہ تعالیٰ اور اس کے پیارے محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچانے کے واسطے آج کل سوائے آپ کے کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ہاں جو اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے کو نہ مانے گا ، وہ جہنم میں اوندھا گرے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ ایک ہے اور اس کے سوا اور کوئی اللہ نہیں۔* یہاں ایک لفظ چھپنے سے رہ گیا ہے۔غالبا رسُول کا لفظ تھا۔(صادق)