ذکر حبیب — Page 54
54 العظیم نہ صرف زبان سے کہتے ہوئے بلکہ رُوح کے ساتھ بولتے ہوئے اللہ کریم کے تخت جلال کے سامنے سجدے کریں اور اُس نبی کریم پر درود پڑھیں جس نے اللہ تعالیٰ اور اس کی صفات کا مسئلہ پاک اور سچی صورت میں ہم کو سمجھایا۔آمین گورنمنٹ اور ہم ۱۸۹۹ء میں ایک دفعہ عاجز راقم لاہور سے کسی رخصت کی تقریب پر قادیان آیا ہوا تھا کہ ایک معز ز سرکاری افسر حضرت مسیح موعود کی خدمت میں حاضر ہوئے۔اُس وقت حضرت صاحب نے جو تقریر کی وہ عاجز نے لکھ کر تر تیب دی تھی جو درج ذیل کی جاتی ہے۔ایک معزز افسر جو کسی تقریب پر اگلے دن قادیان تشریف لائے حضرت اقدس امامنا مرزا غلام احمد صاحب رئیس قادیان نے بھی ان کی دعوت کی۔جبکہ سب مہمان کھانے کے واسطے جمع ہوئے تو دسترخوان کے بچھائے جانے سے پہلے حضرت اقدس امام نے اس مہمان کو اور دوسرے احباب کو مخاطب کر کے جو گفتگو کی وہ ایسی مفید اور کارآمد باتوں پر مشتمل تھی کہ میں نے اکثر فقروں کو اپنی عادت کے موافق اسی وقت اپنی نوٹ بک میں جمع کیا اور بعد میں مجھے خیال آیا کہ دوسرے احباب کو بھی اس پُر لطف تقریر کے مضمون سے حظ اُٹھانے کا موقع دُوں تا کہ اللہ تعالیٰ کے اس احسان کے شکریہ میں کہ مجھے چند دن مسیح کے قدموں میں رہ کر ایمان میں ترقی کرنے کا موقع ملا ہے خلقت کی خدمت ہو جائے۔لہذا ان فقرات کی مدد سے اور اپنی یادداشت کے ذریعہ میں نے مفصلہ ذیل عبارت ترتیب دی ہے : حضرت صاحب نے اُس معزز مہمان کو مخاطب کر کے فرمایا کہ جب کبھی آپ اس جگہ قادیان میں تشریف لاویں، بے تکلف ہمارے گھر میں تشریف لایا کریں۔ہمارے ہاں مطلقاً تکلف نہیں ہے۔ہمارا سب کا روبار دینی ہے اور دُنیا اور اُس کے تعلقات اور تکلفات سے ہم بالکل جُدا ہیں۔گویا کہ ہم دنیا داری کے لحاظ سے مثل مُردہ کے ہیں۔ہم محض دین کے ہیں اور ہما را سب کارخانہ دینی ہے جیسا کہ اسلام میں ہمیشہ بزرگوں اور اماموں کا ہوتا آیا ہے اور ہمارا کوئی نیا طریق نہیں، بلکہ لوگوں کے اُس اعتقادی طریق کو جو کہ ہر طرح سے ان کے لئے خطرناک ہے، دور کرنا اور ان کے دلوں سے نکالنا ہمارا اصل منشاء اور مقصود ہے۔مثلاً بعض نادان یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ غیر قوموں کے لوگوں کی چیزیں چُرا لینا جائز ہے اور کافروں کا مال ہمارے لئے حلال ہے اور پھر اپنی