ذکر حبیب — Page 28
28 عیسوی سنه حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنی تحریروں میں عموماً عیسوی سنہ اور تاریخ لکھا کرتے تھے۔ہجری تاریخ اور سنہ کا بہت کم استعمال کرتے تھے۔جس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ عام طور پر اس ملک میں عیسوی سنہ کا رواج اس کثرت سے ہو گیا ہے کہ اسی سند اور تاریخ کو سب لوگ یا د رکھتے ہیں اور استعمال کرتے ہیں اور اس کے علاوہ دوسری تاریخوں کے استعمال سے پڑھنے والوں کو جلدی سے صحیح طور پر پتہ نہیں لگتا کہ یہ تاریخ کب اور کس دن تھی۔انجمن ما تحت غائبات ۱۹۰ء کے آخر میں اخبارات بدر و الحکم میں کسی طبیب کا ایک اشتہار شائع ہوا جس میں مونچھوں کے بڑہانے کی کسی دوائی کا ذکر تھا۔اس پر انجمن کے بعض ممبروں نے مجلس میں ریز ولیوشن پاس کرایا کہ اڈیٹر کو ایسے اشتہار شائع نہیں کرنے چاہئیں۔مجھے اس سے بہت رنج ہوا کہ یہ ایک معمولی بات تھی۔بدر میں اشتہار شائع ہوا تھا مجھے توجہ دلائی جاتی تو میں بدر ہی میں ایک نوٹ شائع کر دیتا کہ یہ غلطی ہے۔اس کے واسطے مجلس میں معاملہ پیش کرانے اور ریز ولیوشن کرانے کی کیا ضرورت تھی۔اپنی اس ناراضگی کا اظہار میں نے ایک علیحدگی کا موقع پا کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں بھی کیا۔حضور نے فرمایا ” یہ لوگ ہمارے ماتحت ہیں آپ اس کا کچھ خیال نہ کریں۔آپ کا کچھ نقصان نہیں۔جھوٹی خبریں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں مخالفین و معاندین سلسلہ جو جو شرارتیں کیا کرتے تھے اُن میں سے ایک شرارت یہ بھی تھی کہ وہ مشہور کر دیا کرتے تھے کہ ” مرزا کو طاعون ہو گیا ہے “ یا ” مرزا کو جذام ہو گیا ہے اور ایسے مخالفانہ پراپیگنڈا کرنے والے پبلک کو یقین دلانے کے واسطے ساتھ ہی یہ جُھوٹ بھی بنایا کرتے تھے کہ ”ہم خود قادیان گئے تھے اور اپنی آنکھ سے دیکھ آئے ہیں کہ مرزا نے جذام کی مرض کے سبب ہاتھوں پر پٹیاں باندھی ہوئی ہیں اور قادیان آنے والوں کو راستہ میں ریل میں اور سڑک پر رو کا کرتے تھے کہ قادیان مت جاؤ ، وہاں کیا رکھا ہے۔بعض کمزور آدمی اُن کے دھوکے میں آ جاتے اور واپس چلے جاتے۔لیکن اکثر اپنے عزم پر قائم رہتے اور قادیان پہنچتے اور جب اُن پر مخالفین کا چُھوٹ گھلتا تو بہت تعجب کرتے کہ ایک انسان ایسا افترا بھی کر سکتا ہے اور ان واقعات کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں