ذکر حبیب — Page 352
352 موجودہ اخلاق کے متعلق جو سینکڑوں شہادتیں خود اہل یورپ سے ہمیں ملی ہیں۔اُن میں سے صرف دو تین کو میں یہاں نقل کر کے دکھاتا ہوں۔کہ عیسائی تجربہ کیا شہادت دیتا ہے: (۱) ایسی مفلسی ، ایسی تباہی، ایسی مصیبت ، ایسی جہالت اس جگہ پائی جاتی ہے کہ یہ مقام مجھے ایک آتش فشاں پہاڑ کی چوٹی پر نظر آ رہا ہے۔(۲) تمام عیسائی دنیا قدیم الایام سے آج تک مفلسی ، تباہی ، بدی اور پرلے درجے کی گنہ گاری میں پڑی ہوئی ہے۔(۳) لکھوکھا آدمی جو بپتسمہ لے چکے ہیں۔نہایت ہی خراب قسم کی بدکاری میں اپنی زندگی بسر کر رہے ہیں۔(۴) تمام مختلف گرجوں کے افسر ہم کو اطلاع دیتے ہیں کہ قوم مذہب سے بالکل بے پرواہ ہے اور انجیل ان پر اپنا کوئی اثر نہیں ڈال سکتی۔میں تعجب کرتا ہوں کہ اپنے اس امر کے واسطے اتنے اتنے وسیع سمندر چیرنے کی تکلیف اُٹھائی۔کہ ہمیں عیسائی تجربہ سے آگاہ کریں۔جہاں تک میں دیکھ سکتا ہوں۔انجیل میں یسوع کا کوئی بھی ایسا حکم نہیں جو کسی عاقل اور دور اندیش کے لئے قابل عمل ہو۔مثال کے طور پر یسوع کے چار پانچ احکام کو لیتا ہوں اور پوچھتا ہوں کہ کیا کوئی دانا ان پر عمل کر سکتا ہے؟ اول۔یسوع کہتا ہے کہ الزام نہ لگاؤ" کیا تم کو عدالتیں فوراً بند کر دینی چاہئیں۔حج فورا موقوف کر دینے چاہئیں؟ دوم۔یسوع کہتا ہے کہ کل کا فکر نہ کرو۔کیا گورنمنٹ کے سارے دفتر جو سالہا سال پہلے امور کا فکر کرتے ہیں۔سب کے سب بند کر دینے چاہئیں؟ سوم۔یسوع کہتا ہے کہ اپنا خزانہ زمین پر نہ رکھ۔کیا تمام سرکاری خزانوں کو آگ لگا دینی چاہئیے ؟ چہارم۔یسوع کہتا ہے کہ صدقہ پوشیدگی میں دو۔کیا مشنریوں کی تمام خیرات کی فہرستیں جو اخباروں میں چھپتی ہیں۔کفر سے بھری ہوئی ہیں؟ پنجم۔یسوع کہتا ہے کہ اگر تیرا کوئی کوٹ لے تو اُسے چوغہ بھی دے دے۔کیا جب بوئروں نے ہماری دانا گورنمنٹ سے ٹرنس دال پر جھگڑا کیا تو ان کو ساتھ ہی کیپ کالونی بھی دے دینی چاہئیے تھی۔مثال کے لئے یہ باتیں کافی ہوں گی۔یسوع کے تمام اصول اسی قسم کے ہیں۔اور اصل