ذکر حبیب — Page 278
278 صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی کے سبب ہلاک نہ ہو جاؤں۔میں یہ نہیں کہتا کہ صرف دس روپیہ ماہوار ہی ارسال کروں بلکہ اس سے بھی زیادہ جو حضور حکم فرماویں۔انشراح صدر کے ساتھ حاضر خدمت کرنے کو طیار ہوں۔اور تھوڑی رقم پر غریبی کے ساتھ اپنا گزارہ کرنے کو راضی ہوں۔اس رحمن رحیم اللہ کے واسطے جس نے آپ کو اس زمانہ میں اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کا نائب بنادیا۔حضور میرے لئے دُعا ء اور شفاعت کریں تا کہ میں ہلاک نہ ہو جاؤں۔اللہ تعالیٰ آپ کی ہر ایک دُعاء کو قبول کرتا ہے۔اور آپ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دستار مبارک ہیں۔پس آپ میرے لئے سفارش کریں۔اور مجھے وہ طریق سکھلائیں اور اُن پر چلا ئیں جن سے میں اللہ اور اُس کے رسول کو راضی کرلوں۔بسمه آپ کی جوتیوں کا غلام محمد صادق ۱۸ / مارچ ۱۸۹۸ء محتمی اخویم مفتی محمد صادق صاحب سلمہ اللہ السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبر کاتہ۔میں نے آپ کا خط پڑھا۔میں انشاء اللہ الکریم آپ کے لئے دُعاء کروں گا۔تا یہ حالت بدل جائے۔اور انشاء اللہ دعا قبول ہوگی۔مگر میں آپ کو ابھی صلاح نہیں دیتا کہ اس تنخواہ پر آپ دس روپیہ بھیجا کریں۔کیونکہ تنخواہ قلیل ہے۔اور اہل وعیال کا حق ہے بلکہ میں آپ کو تاکیدی طور پر اور حکماً لکھتا ہوں۔کہ آپ اس وقت تک کہ خدا تعالیٰ کوئی با گنجائش اور کافی ترقی بخشے یہی تین روپیہ بھیج دیا کریں۔اگر میرا کانشنس اس کے خلاف کہتا تو میں ایسا ہی لکھتا۔مگر میرا نور قلب یہی مجھے اجازت دیتا ہے کہ آپ اُسی مقررہ چندہ پر قائم رہیں۔ہاں بجائے زیادت کے درود شریف بہت پڑھا کریں کہ وہی ہدیہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچتا ہے۔ممکن ہے کہ اس ہدیہ کے ارسال میں آپ سے سستی ہوئی ہو۔والسلام خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ خط نمبر ۱۶ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ * نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيم حضرت اقدس مرشد نا و مهدین مسیح موعود مہدی معہود السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ کل حضور نے فرمایا تھا کہ ضعف کے واسطے کوئی تجویز کی جائے گی۔اس واسطے یا دو لاتا ہوں۔حالت یہ ہے (۱) دل دھڑکتا ہے اور گھٹتا ہے (۲) پیشاب بار بار آتا ہے۔(۳) دودھ ریح کرتا ہے اور ریح کبک بو دار ہوتی ہے۔(۴) رات کو نیند نہیں آتی۔پاؤں کے تلوؤں پر گھی ملوانے سے آرام ہوتا ہے۔(۵) ہاتھ پاؤں سر درہتے ہیں۔حضور کی جوتیوں کا غلام عاجز محمد صادق عفا اللہ عنہ قادیان - ۲/ دسمبر ۱۹۰۴ء