ذکر حبیب

by Other Authors

Page 57 of 381

ذکر حبیب — Page 57

57 میں اور دن میں ، اندھیرے میں اور اجالے میں، خلوت میں اور جلوت میں ، ویرانے میں اور آبادی میں ، گھر میں اور بازار میں ، ہر حالت میں یکساں ہو۔پس درستی اخلاق کے واسطے ایسی ہستی پر ایمان کا لانا ضروری ہے جو ہر حال اور ہر وقت میں اس کا نگران اور اس کے اعمال اور افعال اور اُس کے سینے کے بھیدوں کا شاہد ہے۔کیونکہ دراصل نیک وہی ہے جس کا دل اور باہر ایک ہے۔وہ زمین پر فرشتہ کی طرح چلتا ہے۔دہر یہ ایسی گورنمنٹ کے نیچے نہیں کہ وہ حسن اخلاق کو پا سکے۔تمام نتائج ایمان سے پیدا ہوتے ہیں۔چنانچہ سانپ کے سوراخ کو پہچان کر کوئی انگلی اس میں نہیں ڈالتا۔جب ہم جانتے ہیں کہ ایک مقدارا اسٹرکنیا کی قاتل ہے، تو ہمارا اس کے قاتل ہونے پر ایمان ہے اور اُس ایمان کا نتیجہ یہ ہے کہ ہم اس کو منہ نہیں لگائیں گے اور مرنے سے بچ جائیں گے اور تقدیر یعنی دنیا کے اندر تمام اشیاء کا ایک انداز اور قانون کے ساتھ چلنا اور ٹھیرنا اس بات پر دلالت ہے کہ اس کا کوئی مقد ریعنی اندازہ باندھنے والا ضرور ہے۔گھڑی کو اگر کسی نے بالا رادہ نہیں بنایا تو وہ کیوں اس قد را یک با قاعدہ نظام کے ساتھ اپنی حرکت کو قائم رکھ کر ہمارے واسطے فائدہ مند ہوتی ہے۔ایسا ہی آسمان کی گھڑی کہ اس کی ترتیب اور باقاعدہ اور با ضابطہ انتظام یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ بالا رادہ خاص مقصد اور مطلب اور فائدہ کے واسطے بنائی گئی ہے۔اس طرح انسان مصنوع سے صانع کو اور تقدیر سے مقد رکو پہچان سکتا ہے۔لیکن اس سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ نے اپنی ہستی کے ثبوت کا ایک اور ذریعہ قائم کیا ہوا ہے اور وہ یہ ہے کہ قبل از وقت اپنے برگزیدوں کو کسی تقدیر سے اطلاع دے دیتا ہے اور ان کو بتلا دیتا ہے کہ فلاں وقت اور فلاں دن میں نے فلاں امر کو مقد رکر دیا ہے۔چنانچہ وہ شخص جس کو خدا نے اس کام کے واسطے چُنا ہوا ہوتا ہے پہلے سے لوگوں کو اطلاع دے دیتا ہے کہ ایسا ہوگا اور پھر وہ ایسا ہی ہو جاتا ہے۔جیسا کہ اُس نے کہا تھا۔اللہ تعالیٰ کی ہستی کے ثبوت کے واسطے یہ ایسی دلیل ہے کہ ہر ایک دہر یہ اس موقع پر شرمندہ اور لاجواب ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہم کو ہزاروں ایسے نشانات عطا کئے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ کی ہستی پر لذیذ ایمان پیدا ہوتا ہے۔ہماری جماعت کے اس قدر لوگ اس جگہ موجود ہیں۔کون ہے جس نے کم از کم دو چار نشان نہیں دیکھے اور اگر آپ چاہیں تو کئی سو آدمی کو باہر سے بلوائیں اور اُن سے پوچھیں۔اس قدر احبار اور اخیار اور متقی اور صالح لوگ جو کہ ہر طرح سے عقل اور فراست رکھتے ہیں اور دُنیوی طور پر اپنے معقول روز گاروں پر قائم ہیں کیا ان کو تسلی نہیں ہوئی۔کیا اُنہوں نے ایسی باتیں نہیں دیکھیں جن پر انسان کبھی قادر نہیں ہے۔اگر اُن سے سوال کیا جائے تو ہر ایک اپنے آپ کو اوّل درجہ کا گواہ قرار دے گا۔کیا ممکن ہے کہ ایسے ہر طبقہ کے انسان جن میں عاقل اور فاضل اور طبیب اور ڈاکٹر اور سوداگر اور مشائخ اور