ذکر حبیب

by Other Authors

Page 56 of 381

ذکر حبیب — Page 56

56 بر خلاف منصو بہ بازی کی طرف اپنا ذہن لے جاوے۔حالانکہ یہ ہمارے دیکھنے کی باتیں ہیں کہ سکھوں کے زمانہ میں مسلمانوں کو کس قدر تکلیف ہوتی تھی ، صرف ایک گائے کے اتفاقاً ذبح کئے جانے پر سکھوں نے چھ سات ہزار آدمیوں کو تہ تیغ کر دیا تھا اور نیکی کی راہ اس طرح پر مسدود تھی کہ ایک شخص مسمی کتنے شاہ اس آرزو میں ہاتھ اُٹھا اُٹھا کر دُعائیں مانگتا تھا کہ ایک دفعہ صحیح بخاری کی زیارت ہو جائے اور دُعا کرتا کرتا رو پڑتا تھا اور زمانہ کے حالات کی وجہ سے نا امید ہو جاتا تھا۔آج گورنمنٹ کے قدم کی برکت سے وہی صحیح بخاری چار پانچ روپے میں مل جاتی ہے اور اُس زمانہ میں لوگ اس قدر دُور جا پڑے تھے کہ ایک مسلمان نے جس کا نام خدا بخش تھا ، اپنا نام خدا سنگھ رکھ لیا تھا۔بلکہ اس گورنمنٹ کے ہم پر اس قدر احسان ہیں کہ اگر ہم یہاں سے نکل جائیں تو نہ ہمارا مکہ میں گذارا ہو سکتا ہے نہ قسطنطنیہ میں تو پھر کس طرح ہو سکتا ہے کہ ہم اس کے برخلاف کوئی خیال اپنے دل میں رکھیں۔اگر ہماری قوم کو خیال ہے کہ ہم گورنمنٹ کے برخلاف ہیں یا ہمارا مذہب غلط ہے تو ان کو چاہیے کہ وہ مجلس قائم کریں اور اس میں ہماری باتوں کو ٹھنڈے دل سے سنیں۔تا کہ ان کی تسلی ہو اور ان کی غلط فہمیاں دور ہوں۔جھوٹے کے منہ سے بدبو آتی ہے اور فراست والا اس کو پہچان جاتا ہے۔صادق کے کام سادگی اور یک رنگی سے ہوتے ہیں اور زمانہ کے حالات اس کے مؤید ہوتے ہیں۔آج کل دیکھنا چاہیے کہ لوگ کس طرح عقائد حقہ سے پھر گئے ہیں۔بیس کروڑ کتا ہیں اسلام کے برخلاف شائع ہوئی ہیں اور کئی لاکھ آدمی عیسائی ہو گئے ہیں۔ہر ایک بات کے لئے ایک حد ہوتی ہے۔اور خشک سالی کے بعد جنگل کے حیوان بھی بارش کی اُمید میں آسمان کی طرف منہ اُٹھاتے ہیں۔آج تیرہ سو برس کی دھوپ اور امساک باراں کے بعد آسمان سے بارش اُتری ہے۔اب اس کو کوئی روک نہیں سکتا۔برسات کا جب وقت آ گیا ہے تو کون ہے جو اس کو بند کرے۔یہ ایسا وقت ہے کہ لوگوں کے دل حق سے بہت ہی دور جا پڑے ہیں ، ایسا کہ خود خدا پر بھی شک ہو گیا ہے۔حالانکہ تمام اعمال کی طرف حرکت صرف ایمان سے ہوتی ہے۔مثلاً سم الفار کو اگر کوئی شخص طبا شیر سمجھ لے تو بلاخوف وخطر ماشوں تک کھا جاوے گا۔اگر یقین رکھتا ہو کہ یہ زہر قاتل ہے تو ہرگز اس کو منہ کے قریب بھی نہ لائے گا۔حقیقی نیکی کے واسطے یہ ضروری ہے کہ خدا کے وجود پر ایمان ہو۔کیونکہ مجازی حکام کو یہ معلوم نہیں کہ کوئی گھر کے اندر کیا کرتا ہے اور پس پردہ کسی کا کیا فعل ہے اور اگر چہ کوئی زبان سے نیکی کا اقرار کرے مگر اپنے دل کے اندر وہ جو کچھ رکھتا ہے اس کے لئے اُس کو ہمارے مواخذہ کا خوف نہیں اور دُنیا کی حکومتوں میں سے کوئی ایسی نہیں جس کا خوف انسان کو رات