ذکر حبیب

by Other Authors

Page 55 of 381

ذکر حبیب — Page 55

55 ان نفسانی خواہشوں کی خاطر اس کے مطابق حدیثیں بھی گھڑ رکھی ہیں۔پھر وہ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ حضرت عیسے دوبارہ دُنیا میں آنے والے ہیں اور ان کا کام لاٹھی مارنا اور خونریزیاں کرنا ہے، حالانکہ جبر سے کوئی دین دین نہیں ہو سکتا۔غرض اس قسم کے خوفناک عقیدے اور غلط خیالات ان لوگوں کے دلوں میں پڑے ہوئے ہیں جن کو دور کرنے کے واسطے اور پُر امن عقاید ان کی جگہ قائم کرنے کے واسطے ہمارا سلسلہ ہے۔جیسا کہ ہمیشہ سے ہوتا رہا ہے کہ مصلحوں کی اور اولیاء اللہ کی اور نیک باتیں سکھانے والوں کی دُنیا دار مخالفت کرتے ہیں ایسا ہی ہمارے ساتھ بھی ہوا ہے اور مخالفوں نے غلط خبریں محض افترا اور جھوٹ کے ساتھ ہمارے برخلاف مشہور کیں۔یہاں تک کہ ہم کو ضرر پہنچانے کے واسطے گورنمنٹ تک غلط رپورٹیں کیں کہ یہ مفسد آدمی ہیں اور بغاوت کے ارادے رکھتے ہیں اور ضرور تھا کہ یہ لوگ ایسا کرتے کیونکہ نادانوں نے اپنے خیر خواہوں یعنی انبیاء اور اُن کے وارثین کے ساتھ ہمیشہ اور ہر زمانہ میں ایسا ہی سلوک کیا ہے مگر خدا تعالیٰ نے انسان میں ایک زیر کی رکھی ہے اور گورنمنٹ کے کارکن ان لوگوں کو خوب جانتے ہیں۔چنانچہ کپتان ڈگلس صاحب کی دانائی کی طرف خیال کرنا چاہئیے کہ جب مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے میری نسبت کہا کہ یہ بادشاہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور اشتہار اس کے سامنے پڑھا گیا تو اس نے بڑی زیر کی سے پہچانا کہ یہ سب ان لوگوں کا افترا ہے اور ہمارے مخالف کی کسی بات پر توجہ نہ کی۔کیونکہ اس میں شک نہیں کہ ازالہ اوہام وغیرہ کتب میں ہمارا لقب سلطان لکھا ہے۔مگر یہ آسمانی سلطنت کی طرف اشارہ ہے اور دنیوی بادشاہوں سے ہمارا کچھ سروکار نہیں۔ایسا ہی ہمارا نام حکم عام بھی ہے۔جس کا ترجمہ اگر انگریزی میں کیا جائے تو گورنر جنرل ہوتا ہے اور شروع سے یہ سب باتیں ہمارے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں میں موجود ہیں کہ آنے والے مسیح کے یہ نام ہیں۔یہ سب ہمارے خطاب کتابوں میں موجود ہیں اور ساتھ ان کی تشریح بھی موجود ہے کہ یہ آسمانی سلطنتوں کی اصطلاحیں ہیں اور زمینی بادشاہوں سے اس کا تعلق نہیں ہے۔اگر ہم شر کو چاہنے والے ہوتے تو ہم جہا د وغیرہ سے لوگوں کو کیوں روکتے اور درندگی سے ہم مخلوقات کو کیوں منع کرتے۔غرض کپتان ڈگلس صاحب عقل سے ان باتوں کو پا گیا اور پورے پورے انصاف سے کام لیا اور دونوں فریق میں سے ذرہ بھی دوسرے فریق کی طرف نہیں جھکا اور ایسا نمونہ انصاف پروری اور دادرسی کا دکھلایا کہ ہم بدل خواہشمند ہیں کہ ہماری گورنمنٹ کے تمام معزز حکام ہمیشہ اسی اعلیٰ درجہ کے نمونہ انصاف کو دکھلاتے رہیں جو نو شیروانی انصاف کو بھی اپنے کامل انصاف کی وجہ سے ادنیٰ درجہ کا ٹھیرا تا ہے اور یہ کس طرح سے ہو سکتا ہے کہ کوئی اس گورنمنٹ کے پُر امن زمانہ کو بُرا خیال کرے اور اس کے