ذکر حبیب — Page 27
27 کٹواتے اور سر اور ڈاڑھی پر حجام سے مہندی لگواتے۔مہندی کے سبب سے آپ کے بال سُرخ رہتے تھے لیکن آخری سالوں میں حضرت میر حامد شاہ صاحب سیالکوٹی نے ایک نسخہ تیار کیا تھا کہ اس کو مہندی میں ملا لیا جائے تو نزلہ اور زکام کا خوف نہیں رہتا تھا۔لیکن اس نسخہ میں ساتھ ہی یہ خاصیت بھی تھی کہ اس سے بالوں میں سیا ہی آجاتی تھی۔اس واسطے آخری سالوں میں حضور کے بال سیاہ ہی نظر آتے تھے۔حضور کی عادت تھی کہ ہمیشہ گھر سے باہر عصاء اپنے ہاتھ میں رکھتے تھے اور جب کبھی سفر میں یا سیر پر یا نماز جمعہ کے لئے جامعہ مسجد کو تشریف لے جاتے تو عصاء ضرور آپ کے ہاتھ میں ہوتا۔خلوت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عادت تھی کہ دن میں کسی ایک وقت ایک یا دو گھنٹہ کے واسطے سب سے بالکل علیحدہ ہو جاتے تھے۔گورداسپور میں جس مکان میں ہم سب منزل کئے ہوئے تھے اُس کی زمین کی منزل پر دروازہ سے داخل ہوتے ہوئے بائیں طرف ایک چھوٹا سا کمرہ تھا جو پاخانہ کے لئے استعمال ہوتا تھا مگر پاخانہ کے واسطے کو ٹھے کے اوپر اور جگہیں بھی تھیں۔پس اس نیچے والے کمرے کو حضور نے صاف کرایا۔اُسے خوب دھویا گیا اور اُس پر فرش کیا گیا اور دو پہر کے وقت دو یا تین گھنٹے کے قریب حضور بالکل علیحدہ اندر سے کنڈی لگا کر اس میں بیٹھے رہتے تھے۔نظم سُنتے اگر کوئی دوست اپنی کوئی نظم یا تصنیف سُنانا چاہتے تو مجلس میں سُن لیتے تھے۔نظم میں اگر کچھ خامیاں یا غلطیاں ہوتیں تو کچھ گرفت نہ کرتے تھے۔ایک دفعہ ایک احمدی عبد الرحمن نام فرید آبادی نے اپنی نظم سُنائی جس سے مجلس میں سب لوگ بہت ہنسے اور حضرت صاحب بھی ہنستے رہے۔ضرورات شعری ڈاکٹر عبدالحکیم صاحب جو بعد میں مُرتد ہو گئے تھے اُنہوں نے ایک دفعہ اپنی ایک نظم سنائی جو غلط تھی اور اس میں بیجا طور پر وزن پورا کرنے کے لئے بعض حروف پر تشدید کی گئی تھی۔اس پر حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے نفرت کا اظہار کیا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تبسم کرتے ہوئے فرما یا مولوی صاحب کیا آپ نے یہ کبھی نہیں سُنا ضروراتِ شعری چو ضر ور شد تشدید حروف چرا نباشد