ذکر حبیب — Page 23
23 ہیں۔میرے ایام ملا زمت دفتر اکو نٹنٹ جنرل میں ہر دو اصحاب میرے ساتھ بہت ہمدردی اور خیر خواہی کرتے رہے۔اللہ تعالیٰ اُن کو جزائے خیر دے۔ایک دفعہ حضرت صاحب کو بہت سخت درد گردہ ہوا جو کئی دن تک رہا۔اس کی وجہ سے آپ کو بہت تکلیف رہتی اور رات دن خدام باہر کے کمرہ میں جمع رہتے۔حضرت مولوی نور الدین صاحب رضی اللہ عنہ کا علاج تھا۔ایک دوائی جو مجھے یاد ہے اس مرض کے واسطے حضرت مولوی - صاحب نے دی ، وہ یہ تھی کہ خالص شہد تھوڑے سے پانی میں گھول کر حضرت صاحب کو پلایا۔ابھی مجھے ہجرت کئے ہوئے تھوڑے ہی دن ہوئے تھے کہ ایک صبح ایک روسی سیاح جو جسیم اور قد آور آدمی تھا اور تاجر پیشہ تھا ، قادیان آیا اور حضرت مولوی نورالدین صاحب کے مطب میں آن کر بیٹھا۔بہت سے لوگ اس کے ارد گرد جمع ہو گئے۔حضرت مسیح موعود کو جب اطلاع ہوئی تو حضور بھی وہیں تشریف لائے۔جب میں وہاں پہنچا تو حضور نے مجھے فرمایا کہ یہ صاحب روس سے آئے ہیں اور اُردو زبان بالکل نہیں جانتے۔پس انگریزی میں اُس کے ساتھ گفتگو ہوتی رہی۔جو کچھ وہ کہتا ، ترجمہ کر کے حضرت صاحب کی خدمت میں عرض کیا جاتا اور جو کچھ حضرت صاحب فرماتے ، ترجمہ کر کے اُسے سُنایا جاتا۔بہت دیر تک حضرت صاحب اس کو تبلیغ کرتے رہے۔پھر اُس نے درخواست کی کہ میں حضور کا فوٹو لینا چاہتا ہوں۔اُس کا اپنا کیمرہ اُس کے پاس تھا۔حضرت صاحب نے اجازت دی اور مسجد اقصٰی میں ایسی صورت میں جبکہ حضرت صاحب کھڑے ہوئے تھے اُس نے فوٹو لیا۔وہ چاہتا تھا اُسی دن واپس چلا جائے مگر باصرار اُسے ایک شب ٹھیرایا گیا۔دوسری صبح جبکہ وہ رخصت ہونے لگا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اُس کی مشایعت کے واسطے گاؤں سے باہر اُس کے ساتھ ساتھ نکلے اور اُس کو تبلیغ کرتے رہے۔جو کچھ حضرت مسیح موعود فرماتے ، مولوی محمد علی صاحب ترجمہ کر کے اُس کو سُناتے۔چلتے چلتے یہ تبلیغ ہوتی رہی۔جماعت کا ایک بڑا گر وہ ساتھ ہو گیا۔یکہ جس پر اُس نے سوار ہو کر بٹالہ جانا تھا آہستہ آہستہ پیچھے آ رہا تھا۔یہاں تک کہ ہم سب موڑ سے گزر کر نہر تک پہنچ گئے۔گویا قادیان سے قریباً ہم میل کا فاصلہ چلے گئے۔تب حضرت صاحب نے اُس کو رخصت کیا اور وہ یکے پر سوار ہو کر بٹالہ گیا اور ہم سب واپس قادیان آئے۔جب کتاب ازالہ اوہام شائع ہوئی اُس وقت حضرت مولوی نور الدین صاحب ریاست جموں میں ملازم تھے اور عاجز راقم بھی وہیں پر ملازم تھا۔ازالہ اوہام میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے مریدین کے نام بھی لکھتے تھے اور اُس میں میرا نام بھی نمبر ۶۶ پر تھا۔