ذکر حبیب — Page 356
356 شرط لگا دی ہے کیونکہ جب ایمان میں فساد ہوتا ہے تو وہ ہرگز عند اللہ قبولیت کے قابل نہیں ہوتا۔جیسے غذا جب باسی ہو یا سر جائے۔تو اسے کوئی پسند نہیں کرتا۔اسی طرح ریاء ، عجب ، تکبر ایسی باتیں ہیں کہ اعمال کو قبولیت کے قابل نہیں رہنے دیتیں۔بیعت تو بہ اور بیعت تسلیم جو تم نے آج کی ہے۔اور اس میں جو اقرار کیا ہے اسے نیچے دل سے بہت مضبوط پکڑو اور پختہ عہد کرو کہ مرتے دم تک تم اس پر قائم رہو گے سمجھ لو کہ آج ہم نفس کی خود رویوں سے باہر آ گئے ہیں اور جو جو ہدایت ہوگی۔اس پر عمل کرتے رہیں گے۔“ فرمایا : ” خدا تعالیٰ یا اس کے رسول پر صرف زبانی ایمان لے آنا یا ایک ظاہری رسم کے طور پر بیعت کر لینا بالکل بے سود ہے۔جب تک کہ انسان پوری طاقت سے خدا تعالیٰ کی راہ میں نہ لگ جائے۔میں نصیحت کرتا ہوں کہ آپ نے جو تعلق مجھ سے پیدا کیا ہے اس کو بڑھانے اور مضبوط کرنے کی فکر میں ہر وقت لگے رہیں جس شاخ کا تعلق درخت سے قائم نہیں رہتا۔وہ گر کر خشک اور بیکار ہو جاتی ہے اور یادر ہے کہ صرف اقرار ہی کافی نہیں۔جب تک کہ عملی رنگ سے اپنے آپ کو نکمین نہ کیا جائے۔بیعت سے مراد خدا تعالیٰ کو جان سپرد کرنا ہے کہ آج ہم نے اپنی جان خدا تعالیٰ کے ہاتھ بیچ دی۔یہ بالکل غلط ہے کہ خُدا تعالیٰ کی راہ میں چل کر انجام کار کو ئی شخص نقصان اُٹھائے۔جو شخص اللہ تعالیٰ کی راہ میں صدق سے قدم اُٹھاتا ہے، اس کو عظیم الشان طاقت اور خارق عادت قوت دی جاتی ہے۔مومن کے دل میں جذب ہوتا ہے۔اس جذب کے ذریعہ سے وہ دوسروں کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔“ اس جگہ ذکرِ حبیب کی جلد اوّل کا اختتام ہوتا ہے۔