ذکر حبیب — Page 22
22 تعلیم حاصل کرتے تھے۔ہم دونوں اکٹھے ہی ایک مکان میں رہتے تھے۔اُس وقت میری درخواست نیچے سے سفارش ہو کر ڈپٹی اکو نٹنٹ جنرل کی میز پر پہنچ چکی تھی۔میں نے وہاں پہنچ کر اس میں سے استعفے کا لفظ کاٹ دیا۔مگر چونکہ نیچے سفارش ہو چکی تھی۔اس واسطے وہ رخصت منظور ہو گئی اور میں قادیان آ گیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حکم سے تعلیم الاسلام ہائی سکول میں بطور سیکنڈ ماسٹر کام کرنے لگ گیا۔جب تین ماہ گزر گئے تو حضرت صاحب نے مجھے فرمایا کہ آپ چھ ماہ کے لئے اور رُخصت کی درخواست دیں۔چنانچہ میں نے چھ ماہ کے لئے رخصت کی درخواست لاہور میں بھیج دی۔جس میں سے تین ماہ کی رخصت منظور ہوئی۔جب وہ تین ماہ بھی گذر گئے تو حضور نے مجھے فرمایا کہ آپ استخارہ کریں۔جب میں نے سات دفعہ استخارہ کیا اور سات استخاروں کے بعد میں نے دیکھا کہ مجھے اس امر کے واسطے پورا انشراح تھا میں اس ملازمت کو ترک کر کے قادیان میں مستقل سکونت اختیار کروں کہ میں نے اس قلبی کیفیت کا اظہار حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کیا۔تب حضور نے مجھے فرمایا آپ استعفی بھیج دیں۔اس خبر کے لاہور پہنچنے پر میرے دفتر کے مسلمان کلرکوں کی طرف سے ایک ڈیپوٹیشن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں پہنچا اور منشی نظام الدین صاحب جو اس غرض کے واسطے ڈیپوٹ (Depute) کئے گئے تھے ، حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اُنہوں نے مسلمانوں کی اس خواہش کو حضرت صاحب کی خدمت میں پیش کیا کہ مفتی صاحب کو لا ہورا کونٹنٹ جنرل کے دفتر میں ہی رہنے دیا جاوے۔جس میں ان کو ذاتی مفاد حاصل ہونے کے علاوہ دوسرے مسلمانوں کو بھی ان سے بہت فائدہ پہنچے گا۔کیونکہ میں وہاں مسلمان کلرکوں کو دفتری کاروبار اور تحریر کے کاموں میں امداد دینے کے علاوہ ان کو دینی فوائد بھی پہنچاتا تھا۔انہیں نمازیں پڑھاتا تھا۔جمعہ کا خطبہ پڑھتا تھا اور دینی امور میں بھی اُن کی رہنمائی کرتا تھا۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السّلام نے اس ڈیپوٹیشن کی درخواست کو منظور نہیں کیا اور میرا قادیان رہنا زیادہ ضروری اور مفید سمجھا اور مجھے استعفے بھیج دینے کے واسطے فرمایا۔چنانچہ میں نے استعفے بھیج دیا اور وہ منظور ہو گیا۔اس جگہ اس امر کا ذکر بھی فائدہ سے خالی نہ ہوگا کہ اس دفتر میں میری ملازمت کے وقت بھی منشی نظام الدین صاحب اور چودھری سردار خان صاحب کی خاص کوشش تھی۔یہ ہر دو اصحاب اس وقت انجمن حمایت اسلام کے رکن تھے جس کے سکول میں میں ملازم تھا، اور دفتر اکو ٹمٹ جنرل میں ملازم تھے۔چودھری صاحب تو ای۔اے سی ہو کر چلے گئے لیکن منشی نظام الدین صاحب نے اسی دفتر سے پنشن لی اور بعد میں کئی ایک ریاستوں میں اکو نٹنٹ جنرل کے عہدے پر ممتاز رہ چکے