ذکر حبیب — Page 347
347 کام کے واسطے کچھ ماہوار چندہ دینا چاہتا ہوں۔میں ڈرا کہ میرے واسطے ایسا چندہ (اگر چہ وہ خفیف رقم ہی ہو ) کا لینا نا جائز ہوگا۔اس واسطے میں نے بابوصاحب کو خط لکھا کہ سر دست میں کوئی ماہوار چندہ نہیں لے سکتا۔ہاں آپ کی تحریک پر میں اس امر کے متعلق استخارہ کروں گا۔پھر جو نتیجہ ہوگا۔دیکھا جائے گا۔اور حضرت سے حکم بھی طلب کروں گا۔اس کے بعد کوئی چھ ماہ تک مجھے کوئی ایسا موقعہ نہ ملا کہ میں اس امر کے متعلق توجہ اور استخارہ کرتا۔چھ ماہ کے بعد مجھے ایک وقت میسر آیا کہ میں نے دُعا کی اور استخارہ کیا اور پھر حضرت امام علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں یہ سب باتیں عرض کیں اور یہ بھی دریافت کیا کہ آیا اس کام کو جاری رکھوں یا نہ رکھوں؟ حضرت امام علیہ السلام نے جواب میں لکھا : السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ میرے نزدیک جہاں تک کچھ دقت اور حرج واقعہ نہ ہو۔اس کام میں کچھ مضائقہ نہیں ہے۔موجب تبلیغ ہے۔اور جو صاحب اس کام میں مدد دینا چاہیں وہ بے شک دیں۔خاکسار مرزا غلام احمد اس پر میں نے بابو محمد الہی صاحب کو اطلاع دی جو رقم اس امر کے متعلق میرے پاس وقتاً فوقتاً آئے گی۔اس کی رسید میں اسی اخبار میں دے دیا کروں گا اور ساتھ ہی میں نے ارادہ کیا ہے۔کہ آئندہ ہر ہفتہ میں بذریعہ اخبار کے ایک رپورٹ اس کارروائی کی چھاپ دیا کروں۔تا کہ احباب کے واسطے موجب ازدیاد ایمان اور وسعت ہو۔چونکہ اس کام کے دو حصے ہیں۔یعنی مذہب کی تحقیق اور اسلام کی تبلیغ۔اس واسطے یہ مضامین اخبار میں تحقیق الادیان وتبلیغ الاسلام کی سرخی کے ذیل میں نکلا کریں گے۔انشاء الله و ماتوفیقی الا بالله العلى العظيم - چنانچہ اس ہفتہ میں امریکہ سے ایک نو مسلم انگریز کا خط آیا ہے۔جس کی پہلے ہم کو خبر نہ تھی۔یعنی اس کا نام اور پتہ اور اس کے مشرقی علوم سے واقف ہونے کی خبر ایک کتاب فروش کے اشتہار میں پڑھی تھی۔کیونکہ صاحب موصوف نے ایک کتاب پر اپنی رائے لکھی تھی۔پس میں نے اس کو ایک خط لکھا۔میں اپنے خط کے ترجمہ کو بمعہ جواب کے ترجمہ کے نیچے درج کرتا ہوں۔محمد صادق عفی عنہ