ذکر حبیب — Page 327
327 کیونکہ یہ دُعاء آسمان سے آگ برسنے کے لئے نہ ہوگی بلکہ بقول احمد خدا سے یہ دُعا کی جاوے گی کہ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہو وہ اوّل مرے، حقیقت میں یہ درخواست بہت ہی انصاف اور دلیری پر مبنی ہے۔اور اس کے ساتھ دیگر تفصیلات بھی اسی طرح راست اور واجب ہیں احمد کی یہ رائے ہے کہ اگر مسٹر ڈوئی مدعی الیاس اس مقابلہ کو قبول کرے۔تو کم از کم ہزار آدمیوں کے دستخط کے ساتھ اسے شائع کر دے۔پھر اسی طرح سے احمد بھی شائع کر دے گا۔اس کے بعد اسلام کا پہلوان نبی ( یعنی مرزا صاحب ) یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ موجودہ حالت کے واقعات تمام کے تمام مسٹر ڈوئی ہی کے لئے مفید پڑے ہوئے نظر آتے ہیں کیونکہ ڈوئی اس سے دس برس چھوٹا ہے۔ہاں احمد صرف ایک ہی شرط لگاتے ہیں کہ یہ منہ مانگی موت انسانی ہاتھ سے واقع نہ ہو، بلکہ کسی بیماری کے ذریعہ یا بجلی سے مر جائے یا سانپ کے ڈسنے وغیرہ سے ہو۔مگر ہماری رائے میں اس شرط کی ضرورت نہ تھی۔اس سے بدگمانی پیدا ہوتی ہے۔اب ہم اس بات پر خاتمہ کرتے ہیں کہ تقویٰ کو مدنظر رکھ کر جان الیگزنڈرڈوئی مرزا غلام احمد صاحب کی اس دُعا کو قبول کرے۔الاسکا کی سرحد پر جو بعض مال کے نرخنامہ کا جھگڑا ہے اور اتضمین نہر کے جو مشکلات در پیش ہیں۔کیا ان کے ساتھ یہ مقابلہ دُعاء جس میں ایک طرف تو مدعی الیاس کے ساتھ انگریزی درخواست پر جانزون ، جانسون ، اور اسمتھون اور براونون کے دستخط ہوں گے۔اور دوسری طرف قادیانی رئیس کے ساتھ عربی دستاویز میں ہند با دون سندھ بادون اور علی بابون کے دستخط ہوں گے۔کچھ کم مسرت بخش ہر گز نہیں ہو گا۔در حقیقت ملک کنیڈا کے صلیب بردار ڈ و کبروز اور جزائر فلپائن کی درجن میری کی مستقل مزاجی اور اشیاء گورنمنٹ کو مشکلات میں ڈالنے والے فرامر جونس وغیرہ ان نامور انسانوں کے ساتھ جنہوں نے آج کل اپنے کارنامے سے دُنیا کو اپنی طرف متوجہ کر رکھا ہے۔یہ انگریزی اور عربی دُعاء کا مقابلہ ۳ - ۱۹۰۲ ء کی سردیوں میں اس زمانہ کا ایک لطیف اور دلکش منظر صفحہ عالم کے لئے ہوگا۔