ذکر حبیب

by Other Authors

Page 321 of 381

ذکر حبیب — Page 321

321 اور غرض سے مصفا ہوتی ہے۔دل کے تمام پر دے چیر کر دل کی جڑھ میں اس طرح سے بیٹھ جاتی ہے کہ گویا اس کی جو ہے۔تب جس قدر جوشِ محبت اور پیوند شدید اپنے محبوب سے ہے۔وہ سب حقیقت میں مادر زاد معلوم ہوتا ہے اور ایسا طبیعت سے ہمرنگ اور اس کی جز ہو جاتا ہے کہ تسلی اور کوشش کا ذریعہ ہرگز یاد نہیں رہتا۔اور جیسے بیٹے کو اپنے باپ کا وجود تصو ر کر نے سے ایک رُوحانی نسبت ہوتی ہے۔ایسا ہی اس کو بھی ہر وقت باطنی طور پر اس نسبت کا احساس ہوتا ہے۔اور جیسے بیٹا باپ کا حلیہ اور نقوش نمایاں طور پر اپنے چہرہ پر ظاہر رکھتا ہے اور اس کی رفتار اور کردار اور خو اور بو بصفائی تام اُس میں پائی جاتی ہے۔علی ہذا القیاس یہی حال اس میں ہوتا ہے۔اور اس درجہ اور قرب اول کے درجہ میں فرق یہ ہے کہ قرب اوّل کا درجہ جو خادم اور مخدوم سے تشبہ رکھتا ہے۔وہ بھی اگر چہ اپنے کمال کے رُو سے اس درجہ ثانیہ سے نہایت مشابہت رکھتا ہے۔لیکن یہ درجہ اپنی صفائی کی وجہ سے تعلق مادر زاد کے قائم مقام ہو گیا ہے۔اور جیسا باعتبار نفس انسانیت کے دوانسان مساوی ہوتے ہیں۔لیکن بلحاظ شدّت وضعف خاص انسانی کے ظہور آثار میں متفاوت واقعہ ہوتے ہیں۔ایسا ہی ان دونوں درجوں میں تفاوت درمیانی ہے۔غرض اس درجہ میں محبت کمال لطافت تک پہنچ جاتی ہے۔اور مناسبت اور مشابہت بال بال میں ظاہر ہو جاتی ہے۔خیال کرنا چاہئیے کہ اگر چہ ایک شخص کمال عشق کی حالت میں اپنے معشوق سے ہمرنگ ہو جاتا ہے مگر جو شخص اپنے باپ سے جس سے وہ نکلا ہے مشابہت رکھتا ہے۔اس کی مشابہت اور ہی آب و تاب رکھتی ہے۔تیسری قسم کا قرب ایک شخص کی صورت اور اس کے عکس سے مشابہت رکھتا ہے یعنی جیسے ایک شخص آئینہ صاف و وسیع میں اپنی شکل دیکھتا ہے۔تو تمام شکل اُس کی مع اپنے تمام نقوش کے جو شنا اس میں موجود ہیں۔عکسی طور پر آئینہ میں دکھائی دیتی ہے۔ایسا ہی اس قسم ثالث قرب میں تمام صفات اللہ صاحب قرب کے وجود میں بتما متر صفائی منعکس ہو جاتی ہے۔اور یہ انعکاس ہر قسم کے تشبہ سے جو پہلے اس سے بیان کیا گیا ہے۔اتم و اکمل ہے۔کیونکہ یہ صاف ظاہر ہے کہ جیسے ایک شخص آئینہ صاف میں اپنا منہ دیکھ کر اس شکل کو اپنی شکل کے مطابق پاتا ہے کہ مطابقت و مشابہت اس کی شکل سے نہ کسی غیر کو کسی تکلف یا حیلہ سے حاصل ہو سکتی ہے اور نہ کسی فرزند میں ایسی ہو بہو مطابقت پائی جاتی ہے۔اور یہ مرتبہ کس کے لئے میٹر ہے۔اور کون اس کامل درجہ قرب سے موسوم ہے؟ اس کا جواب ہم انشاء الله العزیز الحکم کی اگلی اشاعت میں دیں گے۔