ذکر حبیب — Page 306
306 شیخ آہنی در سنگ، لاکھوں روپیہ خلاف شرع شریف خرچ کرنے میں مسلمان مستعد و سر گرم ہی رہے اور اُس بہت بڑے کام میں کچھ بھی نہ دیا۔صرف رنگون اور حیدر آباد دکن سے تو کچھ کیا گیا کل روپے جو میرے خیال میں بھیجے گئے۔وہ تمیں ہزار ہوں گے۔جس میں حاجی عبداللہ صاحب عرب کا سولہ ہزار روپیہ ہو گا۔بیچارہ غریب حاجی اس نیک کام میں پس گیا۔جب حاجی عبداللہ عرب صاحب چندہ کے فراہم نہ ہونے سے سخت بے چینی میں مبتلا ہوئے۔تو اپنے پیر صاحب کی طرف متوجہ ہوئے اور حضرت سید اشہد الدین صاحب کی خدمت میں جا کر عرض کیا۔حضرت پیر صاحب نے استخارہ کیا۔معلوم ہوا کہ انگلستان اور امریکہ میں حضرت مرزا غلام احمد صاحب کے روحانی تصرفات کی وجہ سے اشاعت ہو رہی ہے۔اُن سے دعا منگوانے سے کام ٹھیک ہوگا۔دوسرے دن حاجی صاحب کو پیر صاحب نے خبر دی۔اس پر حاجی صاحب نے بیان کیا کہ جناب مرزا غلام احمد صاحب کی علمائے پنجاب و ہند نے تکفیر کی ہے۔ان سے کیونکر اس بارہ میں کہا جائے۔اس بات کو سُن کر شاہ صاحب نے بہت تعجب کیا اور دوبارہ اللہ کی طرف متوجہ ہوئے۔اور استخارہ کیا۔خواب میں جناب حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا۔اور حضور نے فرمایا کہ مرزا غلام احمد اس زمانہ میں میرا نا ئب ہے۔وہ جو کہے وہ کرو۔صبح کو اُٹھ کر شاہ صاحب نے کہا کہ اب میری حالت یہ ہے کہ میں خود مرزا صاحب کے پاس چلوں گا اور اگر وہ مجھ کو امریکہ جانے کو کہیں تو میں جاؤں گا۔جب کہ حاجی عبداللہ عرب صاحب نے اور دوسرے صاحبوں نے خواب کا حال سُنا۔اور پیر صاحب کے ارادہ سے واقف ہوئے۔تو مناسب نہ سمجھا کہ پیر صاحب خود قادیان جائیں۔سب نے عرض کیا کہ آپ کیوں تکلیف کرتے ہیں۔آپ کی طرف سے کوئی دوسرے صاحب حضرت مرزا صاحب کے پاس جا سکتے ہیں۔چنانچہ پیر صاحب کے خلیفہ عبد اللطیف صاحب اور حاجی عبداللہ عرب صاحب قادیان آئے اور سارا قصہ بیان کر کے خواستگار ہوئے کہ حضرت اقدس اس طرف متوجہ ہوئے۔تا کہ اشاعت اسلام کا کام امریکہ میں عمدگی سے چلنے لگے بیان مذکورہ بالامیں نے خود حاجی عبداللہ عرب صاحب سے سُنا ہے۔اور جیسا کہ میں پہلے لکھ آیا ہوں۔حاجی صاحب کو میں ایک نہایت ہی اعلیٰ درجہ کا با خدا آدمی سمجھتا ہوں۔اس لئے اس خبر کو جھوٹ سمجھنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔جس حالت میں مرزا صاحب ایک بد نام شخص ہور ہے ہیں۔اور جھنڈے والے پیر صاحب ایک نامی آدمی ہیں۔عبداللہ عرب صاحب کو کوئی وجہ نہیں ہے۔کہ اپنے مُرشد کے بارے میں ایک ایسا قصہ تصنیف کریں۔جس سے ظاہراً اُن کا نقصان ہی نقصان ہے۔