ذکر حبیب — Page 13
13 حضرت مسیح موعود کی خدمت ادا کرنے کا شوق دل میں تھا اور اس محبت کا بیج حضرت مولوی نورالدین صاحب مرحوم نے میرے قلب میں ڈالا تھا اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ حضرت مسیح موعود کا اُس وقت کا فرمانا دُعائیہ رنگ میں میری بعد کی زندگی کے سفروں کی طرف اشارہ کرتا تھا کیونکہ اس سلسلہ میں داخل ہونے کے بعد بالخصوص حضرت مسیح موعود کے وصال کے زمانہ کے بعد تبلیغی ضرورتوں کے واسطے مجھے ہندوستان کے بہت سے سفر کرنے پڑے اور پھر یورپ اور امریکہ جانا پڑا اور امریکہ سے واپسی پر بھی میرے سپرد ایسی خدمات ہوتی رہیں جن کی وجہ سے مجھے سال میں قریباً نو ماہ قادیان سے باہر رہنا پڑا اور کئی بار بمبئی ، کلکتہ، سیلون، کشمیر، پشاور تک جانا پڑا۔ریل میں الہام گاڑی میں بیٹھے ہوئے ایک دفعہ حضرت صاحب نے فرمایا کہ مجھے ابھی یہ الہام ہوا ہے۔یا د نہیں رہا کہ وہ کیا الفاظ تھے۔اس کی ظاہری کیفیت جو ہمارے دیکھنے میں آئی سوائے اس کے اور کچھ نہ تھی کہ حضرت صاحب کی آنکھیں بند تھیں اور ہم سمجھتے تھے کہ آپ غنودگی میں ہیں۔صبح کے وقت گاڑی امرتسر کے اسٹیشن پر پہنچی۔شیخ نور احمد صاحب مرحوم ما لک مطبع ریاض ہند اسٹیشن پر موجود تھے۔اُنہوں نے فوراً ایک مکان کا انتظام کیا جو ہال بازار کے قریب غربی جانب کے راستوں میں سے ایک راستہ پر تھا اور کنھیا لعل کے تھیڑ کے قریب ایک گلی میں تھا۔چھوٹا سا مکان تھا۔اُوپر کے کمرہ میں حضرت صاحب بمع اہل بیت رہتے تھے اور نیچے ہم تین چار آدمی جو حضرت صاحب کے ساتھ تھے رہتے تھے۔شہر میں ایک شور پڑ گیا اور کثرت سے لوگ حضرت اقدس سے ملنے اور موافقت یا مخالفت میں باتیں کرنے کے واسطے آتے تھے۔مولوی احمد اللہ اُن دنوں فرقہ اہلحدیث کے ایک مولوی بنام غالباً احمد اللہ صاحب جو غز نویوں کی مسجد کے جمعہ کے دن کے امام تھے۔غزنویوں کے ساتھ بعض معاملات میں کچھ اختلاف رکھتے تھے اور آپس میں اُن کا جھگڑا چلا ہوا تھا۔اُن کے پہلے جھگڑوں پر ایک مزید جھگڑا یہ پیدا ہوا کہ غزنوی صاحبان یہ چاہتے تھے کہ مولوی صاحب اپنے خطبہ اور وعظ میں حضرت صاحب پر کفر کا فتویٰ پیش کریں مگر وہ اس سے پر ہیز کرتے تھے۔جمعہ کے دن حضرت صاحب نے مجھے فرمایا کہ آپ نماز جمعہ غزنویوں کی مسجد میں جا کر پڑھیں اور وہاں سے خبر لائیں کہ ان لوگوں کی آپس میں کیا گزرتی ہے۔اُس وقت ابھی تک سلسلہ کی تبلیغ اور ترقی اس منزل تک نہیں پہنچی تھی کہ غیر احمد یوں کے پیچھے نماز نہ پڑھنے کا حکم ہوتا بلکہ