ذکر حبیب

by Other Authors

Page 258 of 381

ذکر حبیب — Page 258

258 گیا جو مسجد مبارک میں سے حضرت صاحب کے اندرونی مکانات کو جاتا ہے۔تا کہ وہاں حضرت صاحب کے کسی خادم کو لوٹا دے کر پانی اندر سے منگواؤں۔اتفاقاً اندر سے حضرت صاحب تشریف لائے۔مجھے کھڑا دیکھ کر فرمایا۔آپ کو پانی چاہئیے۔میں نے عرض کی ہاں حضور۔حضور نے لوٹا میرے ہاتھ سے لے لیا۔اور فرمایا۔میں لا دیتا ہوں اور خود اندر سے پانی ڈال کر لے آئے اور مجھے عطاء فرمایا۔آموں کی دعوت گا ہے حضور اپنے باغ سے آم منگوا کر خذ ام کو کھلاتے۔ایک دفعہ عاجز راقم لا ہور سے چند یوم کی رخصت پر قادیان آیا ہوا تھا۔کہ حضور نے عاجز راقم کی خاطر ایک ٹوکرا آموں کا منگوایا۔اور مجھے اپنے کمرہ ( نشست گاہ) میں بلا کر فرمایا۔کہ مفتی صاحب! یہ میں نے آپ کے واسطے منگوایا ہے۔کھا لیں۔میں کتنے کھا سکتا تھا۔چند ایک میں نے کھا لئے۔اس پر تعجب سے فرمایا کہ آپ نے بہت تھوڑے کھائے ہیں۔“ مخدوم نے خدمت کا نمونہ دکھایا مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ میں لاہور سے قادیان آیا ہوا تھا۔غالباً ۱۸۹۷ء یا ۱۸۹۸ء کا واقعہ ہو گا۔مجھے حضرت صاحب نے مسجد مبارک میں بٹھایا جو کہ اُس وقت ایک چھوٹی سی جگہ تھی۔فرمایا کہ آپ بیٹھنے میں آپ کے لئے کھانا لاتا ہوں۔یہ کہہ کر آپ اندر تشریف لے گئے۔میرا خیال تھا کہ کسی خادم کے ہاتھ کھانا بھیج دیں گے۔مگر چند منٹ کے بعد جبکہ کھڑ کی کھلی ، تو میں کیا دیکھتا ہوں کہ اپنے ہاتھ سے سینی اُٹھائے ہوئے میرے لئے کھانا لائے ہیں۔مجھے دیکھ کر فرمایا کہ آپ کھانا کھائیے میں پانی لاتا ہوں۔بے اختیا ر رقت سے میرے آنسو نکل آئے کہ جب حضرت ہمارے مقتداء ، پیشوا ہو کر ہماری یہ خدمت کرتے ہیں۔تو ہمیں آپس میں ایک دوسرے کی رکس قدرخدمت عاجز کے مکان پر تشریف لے گئے کرنی چاہئیے۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بمعہ خدام ایک مقدمہ میں شہادت کے واسطے ملتان تشریف لے گئے۔اور واپسی پر لاہور میں ایک دو روز ٹھیرے۔تو عاجز راقم بیمار تھا۔حضور کی خدمت میں حاضر نہ ہو سکا۔حضور نے دریافت کیا کہ مفتی صاحب ملنے نہیں آئے۔کیا سبب ہے۔کسی نے عرض کی کہ وہ بیمار ہیں۔چل نہیں سکتے۔اس پر حضور خود میرے مکان پر محلہ ستہاں میں تشریف لائے۔دیر تک میرے پاس بیٹھے رہے۔پانی منگوا کر کچھ پڑھ کر اُس میں دم کیا اور مجھے پلایا اور اُٹھتے ہوئے