ذکر حبیب

by Other Authors

Page 12 of 381

ذکر حبیب — Page 12

12 بچے ہیں اور آپ کی باتیں سب سچی ہیں۔میں بھی آپ کے مُریدوں میں داخل ہونا چاہتا ہوں۔حضرت اقدس نے اُس کی بیعت کو قبول فرمایا۔اُس وقت بیعت ایک علیحدہ کمرہ میں ہر ایک کی الگ الگ ہوتی تھی۔طلب ضمانت کا خطرہ ابھی میں لدھیانہ میں ہی تھا کہ کسی خیر خواہ نے آن کر حضرت صاحب کو اطلاع دی کہ مولوی محمد حسین نے مقامی حکام کو ڈرایا ہے کہ مرزا صاحب کے یہاں رہنے سے شہر کے اندر مخالفت کا بہت جوش پھیل گیا ہے اور نقض امن کا سخت اندیشہ ہے۔ایسے شخص سے حفظ امن کی ضمانت لینی چاہئیے۔ہنوز سلسلہ عالیہ کی ابتداء تھی۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی عادت نہ تھی کہ حکام سے ملنے جایا کریں اور حمایت کے اندر کچھ ایسے ذی اثر لوگ بھی نہ تھے جو حکام سے ملتے رہیں اور اُنہیں سب حالات سے آگاہ کرتے رہیں۔اس واسطے دُشمنوں کو ایسی شرارتیں کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔حضرت صاحب کا وہاں قیام مستقل تو تھا ہی نہیں۔آپ نے سوچا کہ اندفاع پیش کرنے کی تجویز میں کرنے اور حکام تک رسائی حاصل کرنے کے جھگڑے سے یہی بہتر ہے کہ ہم واپس چلے جاویں۔عصر کے قریب جب میں کہیں باہر سے مکان پر آیا تو حضرت صاحب چند خُدام کے ساتھ جن میں غالباً قاضی خواجہ علی صاحب مرحوم بھی تھے، ایک چارپائی پر بیٹھے تھے۔اُس چار پائی پر حضور کے لئے کوئی خاص کپڑا یا بچھونا نہیں بچھایا گیا تھا۔دو تین چار پائیاں اور بھی تھیں۔میں بھی ایک چارپائی پر جا کر بیٹھ گیا۔حضرت صاحب نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا۔مفتی صاحب امرتسر جانے کا اچانک ارادہ ہو گیا ہے۔آپ بھی تیار ہو جائیں۔آپ کو یہ دوست بتلا دیں گے کہ ایسی جلدی میں اِرادہ کیوں ہوا ہے۔یہ ریل کا پہلا سفر تھا جس میں مجھے حضرت صاحب کی رفاقت کا موقع ملا۔پہلا سفر ریل ٹکٹ ڈیوڑھے درجہ کے لئے گئے۔لیکن ڈیوڑھے میں کچھ جگہ نہ تھی اور بیٹھنے کے وقت تھرڈ کے کمرہ میں سب بیٹھے۔زنانہ ساتھ تھا اور عورتیں بھی تھرڈ کے کمرہ میں تھیں۔راستہ میں جہاں گاڑی ٹھیرتی میں اپنے کمرہ سے اُتر کر زنانہ ڈبہ سے جا کر خبر دریافت کرتا اور پھر دوڑ کر حضرت صاحب کے پاس آ جاتا۔اس سے حضرت صاحب بہت خوش ہوئے اور فرمایا - آپ سفر میں بہت ہوشیار ہیں۔گو ہوشیار تو میں نے کیا ہونا تھا اور اُس وقت ابھی بہت سفر بھی میں نے نہیں کئے تھے مگر کسی نہ کسی رنگ میں