ذکر حبیب — Page 11
11 تھے۔شیخ اللہ دیا صاحب جلد ساز جو عیسائیوں کے ساتھ مباحثات کرنے میں خاص دلچسپی رکھتے تھے اور میر عباس علی صاحب جو بعد میں مُرتد ہو گئے تھے وہ بھی اُن دنوں حضرت صاحب کی خدمت میں جوش سے مصروف تھے۔اُن دنوں حضرت صاحب کی ایک لڑکی عصمت نام چار پانچ سال کی عمر کی ہوگی، زندہ تھی۔حضرت صاحب عموماً باہر دیوان خانہ میں آکر بیٹھتے تھے اور اپنے عقائد کے متعلق یا عام اسلامی مسائل پر لوگوں کے سوالات کے جواب دیتے تھے اور وعظ فرماتے تھے۔گنوار کا ارادہ قتل یہ بھی لدھیانہ کا واقعہ ہے جو اُنہی ایام میں ہوا کہ ایک مولوی صاحب بازار میں کھڑے ہو کر بڑے جوش کے ساتھ وعظ کر رہے تھے کہ مرزا ( مسیح موعود ) کا فر ہے اور اس کے ذریعہ سے مسلمانوں کو سخت نقصان پہنچ رہا ہے۔پس جو کوئی اس کو قتل کر ڈالے گا وہ بہت بڑا ثواب حاصل کرے گا اور سیدھا بہشت کو جائے گا۔بہت جوش کے ساتھ اُس نے اس وعظ کو بار بار ڈ ہرایا۔ایک گنوار ایک لٹھ ہاتھ میں لئے ہوئے کھڑا اُس کی تقریر سن رہا تھا۔اس گنوار پر مولوی صاحب کے اس وعظ کا بہت اثر ہوا اور وہ چپکے سے وہاں سے چل کر حضرت صاحب کا مکان پوچھتا ہوا وہاں پہنچ گیا۔وہاں کوئی دربان نہ ہوتا تھا۔ہر ایک شخص جس کا جی چاہتا اندر چلا آتا۔کسی قسم کی کوئی رکاوٹ اور بندش نہ تھی۔اتفاق سے اُس وقت حضرت صاحب دیوان خانہ میں بیٹھے ہوئے کچھ تقریر کر رہے تھے اور چند آدمی جن میں کچھ مریدین تھے ، کچھ غیر مریدین ارد گرد بیٹھے ہوئے حضور کی باتیں سُن رہے تھے۔وہ گنوار بھی اپنا لٹھ کا ندھے پر رکھے ہوئے کمرہ کے اندر داخل ہوا اور دیوار کے ساتھ کھڑا ہو کر اپنے عمل کا موقع تاڑنے لگا۔حضرت صاحب نے اُس کی طرف کچھ توجہ نہیں کی اور اپنی تقریر کو جاری رکھا۔وہ بھی سننے لگا۔چند منٹ کے بعد اُس تقریر کا کچھ اثر اُس کے دل پر ہوا اور وہ لٹھ اُس کے کندھے سے اُتر کر اُس کے ہاتھ میں زمین پر آ گیا اور مزید تقریر کو سننے کے لئے وہ بیٹھ گیا اور سُنتا رہا۔یہاں تک کہ حضرت صاحب نے اُس سلسلہ گفتگو کو جو جاری تھا۔بند کیا اور مجلس میں سے کسی شخص نے عرض کیا کہ حضور مجھے آپ کے دعوے کی سمجھ آگئی ہے اور میں حضور کو سچا سمجھتا ہوں اور آپ کے مُریدین میں داخل ہونا چاہتا ہوں۔اس پر وہ گنوار آگے بڑھ کر بولا کہ میں ایک مولوی صاحب کے وعظ سے اثر پا کر اس ارادہ سے یہاں اس وقت آیا تھا کہ اس لٹھ کے ساتھ آپ کو قتل کر ڈالوں اور جیسا کہ مولوی صاحب نے وعدہ فرمایا ہے سیدھا بہشت کو پہنچ جاؤں۔مگر آپ کی تقریر کے فقرات مجھ کو پسند آئے اور میں زیادہ سننے کے واسطے ٹھہر گیا اور آپ کی ان تمام باتوں کے سُننے کے بعد مجھے یہ یقین ہو گیا ہے کہ مولوی صاحب کا وعظ بالکل بے جا دشمنی سے بھرا ہوا تھا۔آپ بے شک