ذکر حبیب — Page 9
9 حضرت مولوی صاحب کو لکھا تھا کہ میں نے ہی مرزا صاحب کو بڑھایا تھا۔آب میں ہی ان کو گرا دوں گا۔اللہ ہی لکھواتا ہے پنڈ دادنخان میں ایک پادری صاحب ہوا کرتے تھے۔بنام ٹامس ہاول۔انہی کے سوالات کے جواب میں کتاب فصل الخطاب مقدمہ اہل الکتاب حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ نے تحریر فرمائی تھی۔بعد میں وہ لاہور تبدیل ہو گئے تھے۔پادری عبد اللہ آتھم کے ساتھ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا مباحثہ ۱۸۹۳ء میں ہوا اور آتھم کے متعلق پیشگوئی کی گئی۔تو ان ایام میں میں نے پادری ٹامس ہاول کو ایک خط اس پیشگوئی کے متعلق لکھا۔جس میں یہ ذکر تھا کہ مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان مباحثات تو بہت ہوئے مگر یہ مباحثہ ایک خاص فضیلت اپنے اندر رکھتا ہے کہ اس میں آتھم کے متعلق پیشگوئی کی گئی ہے۔اس خط کے لکھنے کے وقت میں بھیرہ میں تھا۔میں نے اُس وقت خط کی نقل حضرت اُستاذی المکرم حضرت مولوی نور الدین صاحب ( خلیفہ اول رضی اللہ عنہ ) کو بھیجی جو اُس وقت قادیان میں تھے۔حضرت مولوی صاحب نے میرا خط حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی خدمت میں پیش کیا۔حضور نے اُس خط کے مضمون کی بہت تعریف کی اور فرمایا کہ اللہ ہی لکھواتا ہے۔“ اظہارِ خاص جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا مباحثہ عبداللہ آتھم پادری کے ساتھ امرت سر میں ہوا اور پیشگوئی کی گئی کہ جو فریق حق کی مخالفت کرتا ہے وہ پندرہ ماہ میں ہاویہ میں گرے گا۔مگر عبد اللہ آتھم خوفزدہ ہونے اور اندر ہی اندر تو بہ کرنے کے سبب مہلت دیا گیا اور بعد میں پھر بے باک ہونے کے سبب ہلاک ہوا۔تو جب ہنوز پندرہ ماہ گذرے نہ تھے اور عام طور پر خیال تھا کہ وہ اس میعاد کے اندر ضرور مرجائے گا اور یہی پیشگوئی کا مطلب ہے۔تو اُن پندرہ ماہ کے گذرنے سے قبل عاجز نے حضرت صاحب کی خدمت میں ایک خط لکھا جس کا مطلب یہ تھا کہ پیشگوئی ظاہر الفاظ میں پوری ہو یا نہ ہو میرے ایمان میں اس سے کوئی کمی نہیں آ سکتی۔میں تو ایسے نشانات کے دیکھنے سے قبل ہی ایمان لا چکا ہوں۔اتفاقاً ایک پُرانی کاپی میں اس خط کی نقل مل گئی ہے جو درج ذیل کی جاتی ہے۔خط بخدمت حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام ۳۱ - اگست ۱۸۹۳ء۔ایسے وقت میں حضور کو کسی مجھ جیسے نالائق اور نابکار کے خط پڑھنے کی فرصت کہاں ہو گی۔مگر میری طبیعت