ذکر حبیب

by Other Authors

Page 217 of 381

ذکر حبیب — Page 217

217۔ساری دنیا پر طوفان آنے کا ذکر ہے۔بلکہ صرف الارض یعنی وہ زمین جس میں نوح نے تبلیغ کی۔صرف اس کا ذکر ہے۔لفظ اراراٹ جس پر کشتی ٹھیری اصل ارایت ہے۔جس کے معنے ہیں۔پہاڑ کی چوٹی کو دیکھتا ہوں۔ریت پہاڑ کی چوٹی کو کہتے ہیں۔قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے لفظ جودی رکھا ہے۔جس کے معنے ہیں۔میرا جو دو کرم۔یعنی وہ کشتی میرے جو دو کرم پر ٹھیری۔“ جہاد مدافعت کے لئے تھا 66 فرمایا ” نادان مولوی ذرا ذرا بات پر جہاد کا فتویٰ دیتے ہیں۔حالانکہ جہاد تو آخر الحیل تھا۔یہ اس کو اول الکیل بناتے ہیں۔کوئی بدذات کسی طرح بھی باز نہ آوے۔تب حکم تھا کہ تلوار چلاؤ۔اور یہ بات صاف ہے۔جب تمام مسائل سُنائے جائیں۔روشن دلائل دئے جاویں۔جس پر خدا کا نمک حرام خدا کے نشانات کا منکر باز نہ آوے۔اور دین میں سدِ راہ بنے۔تو ایسے کے لئے خس کم جہاں پاک کہنا بجا نہیں۔پیغمبر خُد اصلی اللہ علیہ وسلم نے خود تلوار نہیں اُٹھائی۔صرف مدافعت کے لئے ایسا کیا گیا۔اور بیچ یہ ہے کہ پہلے رسُول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر انہوں نے تلوار اُٹھائی۔اور آخر وہ تلوار انہیں کی اُن پر پڑی۔“ ایک شخص نے کہلا بھیجا کہ میں ہندوستان سے کوئی مولوی اپنے ساتھ لاؤں گا۔جو آپ کے ساتھ گفتگو کرے۔مگر مولوی لوگ قادیان آنا پسند نہیں کرتے۔آپ بٹالہ میں آجاو یں۔فرمایا۔قادیان سے وہ لوگ اسی واسطے نفرت رکھتے ہیں کہ میں قادیان میں ہوں۔پھر اگر میں بٹالہ میں ہوا، تو بٹالہ اُن کے لئے نفرت کا مقام بن جائے گا قادیان وہ ہمارے پاس نہ ٹھہر میں کسی اور کے پاس جہاں چاہیں ، قیام کریں۔یہاں دہرئیے موجود ہیں اُن کے پاس ٹھہریں۔ہم بحث کرنا نہیں چاہتے۔ہمارا مطلب صرف سمجھا دینا ہے۔اگر ایک دفعہ اُن کو تسلی نہ ہو وے۔پھر نہیں ، پھر سُنیں۔پھرسنیں فرمایا۔اس دُنیا سے اُس جہان میں جانے کے لئے مُردوں کے واسطے تو ایک راہ بنا ہوا ہے۔اور مُردے ہمیشہ جایا کرتے ہیں۔مگر اس کے سوا اور کوئی دوسری سڑک نہیں۔معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح بھی اسی مُردوں والی سڑک کی راہ سے گئے۔جو مُردوں میں جا بیٹھے۔ورنہ حضرت بیٹی کے پاس کیونکر جا بیٹھے۔“ فرمایا۔تقویٰ کا اثر اسی دُنیا میں متقی پر شروع ہو جاتا ہے۔یہ صرف اُد ہار نہیں نقد ہے۔بلکہ جس طرح زہر کا اثر اور تریاق کا اثر فور ابدن پر ہوتا ہے۔اسی طرح تقویٰ کا اثر بھی ہوتا ہے۔