ذکر حبیب — Page 207
207 القادیان یہ بات پیش ہوئی۔کہ بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ حضور کے اس الہام (وحی) میں که انا انزلنه قريباً من القاديان لفظ قادیان پرال کیوں آیا ہے۔حضرت اقدس امام علیہ السلام نے فرمایا۔اول تو اور بھی کئی ایک گاؤں کا نام قادیان ہے۔اس واسطے ال آیا ہے۔اور دوم یہ کہ یہ لفظ اصل میں قاضیان تھا۔یعنی اس گاؤں کا پہلا نام قاضیان تھا۔اور اس نام میں خدا تعالیٰ نے ایک پیشگوئی رکھی ہوئی تھی۔کہ اس جگہ وہ شخص پیدا ہو گا۔جو حکما عد لا ہوگا۔اس لئے ایک وضعی مادہ کے محفوظ رکھنے کے واسطے اس لفظ پر ال لایا گیا ہے۔تکبر کو توڑو ۳ / جون ۱۹۰۱ء۔اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف کی تعریف میں جو فرمایا ہے: لَو انزلنا هذا القرآن على جبل لرأيته خاشعا متصدعا من خشية الله۔اِس آیت کی تفسیر میں حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ ایک تو اس کے یہ معنے ہیں کہ قرآن شریف کی ایسی تاثیر ہے۔کہ اگر پہاڑ پر وہ اُتر تا تو پہاڑ خوف خدا سے ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا۔اور زمین کے ساتھ مل جاتا۔جب جمادات پر اس کی ایسی تاثیر ہے۔تو بڑے ہی بیوقوف وہ لوگ ہیں۔جو اس کی تاثیر سے فائدہ نہیں اُٹھاتے۔اور دوسرے اس کے معنے یہ ہیں کہ کوئی شخص محبت الہی اور رضائے الہی کو حاصل نہیں کر سکتا۔کہ جب تک دو صفتیں اس میں پیدا نہ ہو جائیں۔اوّل تکبر کو توڑنا۔جس طرح کہ کھڑا ہوا پہاڑ جس نے سر اُونچا کیا ہوا ہوتا ہے۔گر کر زمین سے ہموار ہو جائے۔اسی طرح انسان کو چاہیئے کہ تمام تکبر اور بڑائی کے خیالات کو دور کرے۔عاجزی اور خاکساری کو اختیار کرے۔اور دوسرے یہ ہے کہ پہلے تمام تعلقات اس کے ٹوٹ جاویں۔جیسا کہ پہاڑ ٹوٹ کر متصد عاً ہو جاتا ہے۔اینٹ سے اینٹ جُدا ہو جاتی ہے۔ایسا ہی اس کے تعلقات جو موجب گندگی اور الہی نارضامندی کے تھے۔وہ سب تعلقات ٹوٹ جائیں۔اور اب اس کی ملاقاتیں اور دوستیاں اور محبتیں اور عادتیں صرف اللہ تعالیٰ کے لئے رہ جائیں۔“ 66 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سلام کا مطلب فرمایا ” حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے جو مسیح موعود کو السلام علیکم کہا ہے۔اس میں ایک عظیم الشان پیش گوئی تھی۔کہ باوجود لوگوں کی سخت مخالفتوں کے اور ان کے طرح طرح کے بد اور