ذکر حبیب — Page 206
206 کہ یہ تو کھوٹی نکلی ہے۔وہ بہت ہی خوش ہوئے۔اور فرمایا۔خوب ہوا۔دراصل میرا جی نہیں چاہتا تھا کہ میں کچھ دوں۔مسجدمیں بہت ہیں۔اور مجھے اس میں اسراف معلوم ہوتا ہے۔(۴) ڈائری امام علیہ الصلوۃ والسلام تمثیل عطر جون ۱۹۰۱ ء۔اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ دین کی تائید میں عجیب در عجیب پُر زور مضامین کے لکھے جانے پر گفتگو تھی۔فرمایا ” مہوتسو کے جلسہ اعظم مذاہب کے واسطے جب ہم نے مضمون لکھا۔تو طبیعت بہت علیل تھی۔اور وقت بہت تنگ تھا۔اور ہم نے مضمون بہت جلدی کے ساتھ اسی تکلیف کی حالت میں لیٹے ہوئے لکھایا۔اس پر خواجہ کمال الدین صاحب نے کچھ نا پسندیدگی کا منہ بنایا۔اور پسند نہ کیا کہ مذاہب کے اتنے بڑے عظیم الشان جلسہ میں وہ مضمون پڑھا جاوے۔لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس مضمون کے غالب رہنے کی خبر دی گئی۔اور بالآخر جب وہ مضمون پڑھا گیا۔تو مخالفین نے بھی اس جلسہ میں اقرار کیا کہ اسلام کی فتح ہو گئی۔شروع میں اس مضمون پر راضی نہ ہونے والے دوست کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس کو ایک دفعہ دہلی جانے کا اتفاق ہوا۔تو اُسے کہا گیا کہ واپس ہوتے ہوئے ہمارے واسطے فلاں عطار کی دوکان سے عطر کی ایک شیشی لیتے آنا۔جب وہ شخص دہلی میں اس عطار کی دوکان پر پہنچا۔تو اُس نے دیکھا کہ قسم قسم کے عطر نہایت خوبصورت شیشیوں میں بھرے پڑے ہیں۔اور دوکان خوشبو سے مہک رہی ہے۔اور لوگ اپنی اپنی ضرورت کے موافق عطر خرید رہے ہیں۔پس اُس نے بھی فرمائیش کے مطابق ایک شیشی عطر کی خریدی۔پر اس قدر خوشبو دار عطروں کے پاس ہونے کے سبب اس کو اپنی خریدی ہوئی شیشی چنداں خوشبو دار معلوم نہ ہوئی۔یہاں تک کہ اُس نے جرات کر کے عطار کو شکایت کے طور پر کہا۔کہ یہ شیشی عطر کی تو مجھ کو بہت دور لے جانی ہے۔اور لوگ شوق سے آ کر اس کو دیکھیں گے کہ یہ مشہور دوکان سے آئی ہے۔پر افسوس کہ تو نے اپنے نام کی عزت کے لائق مجھے عطر نہیں دیا۔جو بہت خوشبو دار اور لطیف ہوتا۔عطار نے جواب دیا کہ تو اس کو لے جا۔اور ایسا نہ سمجھے کہ یہ ادنی عطر ہے۔باہر جا کر تو اس کی قدرو قیمت کو معلوم کرے گا۔پس وہ وہاں سے چل پڑا۔اور اپنے وطن کی راہ لی اور اس شیشی کو اپنے ساتھ رکھا۔وہ جس راہ سے گزرتا تھا۔اُس راہ پر پیچھے سے آنے والے اس عطر کی خوشبو کو پاتے۔اور آپس میں کہتے۔کہ یہاں سے کوئی شخص نہایت خوشبو دار عطر لے کر گزرا ہے۔