ذکر حبیب

by Other Authors

Page 199 of 381

ذکر حبیب — Page 199

199 سے انکار کر دیتا ہے۔مثنوی رومی میں ایک اندھے کا ذکر ہے کہ اُس نے یہ کہنا شروع کیا کہ آفتاب دراصل کوئی شے نہیں۔لوگ جھوٹ بولتے ہیں۔اگر آفتاب ہوتا تو کبھی میں بھی دیکھتا۔آفتاب بولا کہ اے اند ھے۔تو میرے وجود کا ثبوت مانگتا ہے۔تو پہلے خُدا سے دُعا کر کہ وہ تجھے آنکھیں بخشے۔تو اللہ تعالیٰ رحیم و کریم ہے۔اگر وہ انسان کی فطرت میں یہ بات نہ رکھ دیتا ، تو نبوۃ کا مسئلہ لوگوں کی سمجھ میں کیونکر آتا۔ابتدائی رؤیا یا الہام کے ذریعہ سے خدا بندہ کو بلا نا چاہتا ہے۔مگر وہ اس کے واسطے کوئی حالت قابل تشفی نہیں ہوتی۔چنانچہ بلغم کو الہام ہوتے تھے۔مگر اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے کہ لَوْ شِئْنَا لرفعناہ ثابت ہوتا ہے کہ اس کا رفع نہیں ہوا تھا۔یعنی اللہ تعالیٰ کے حضور میں وہ کوئی برگزیدہ اور پسندیدہ بندہ ابھی تک نہیں بنا تھا۔یہاں تک کہ وہ گر گیا۔ان الہامات وغیرہ سے انسان کچھ نہیں بن سکتا۔انسان خدا کا بن نہیں سکتا ، جب تک کہ ہزاروں موتیں اس پر نہ آدیں۔اور بیضہ بشریت سے وہ نکل نہ آوے۔اس راہ میں قدم مارنے والے انسان تین قسم کے ہیں۔ایک وہ جو دین العجائز رکھتے ہیں۔یعنی بڑھیا عورتوں کا سامذہب۔نماز پڑھتے ہیں۔روزہ رکھتے ہیں۔قرآن شریف کی تلاوت کرتے ہیں اور توبہ واستغفار کر لیتے ہیں۔اُنہوں نے تقلیدی امر کو مضبوط پکڑا ہے وراس پر قائم ہیں۔دوسرے وہ لوگ ہیں۔جو اس سے آگے بڑھ کر معرفت کو چاہتے ہیں۔اور ہر طرح کوشش کرتے ہیں۔اور وفاداری اور ثابت قدمی دکھاتے ہیں اور اپنی معرفت میں انتہائی درجہ کو پہنچ جاتے ہیں۔اور کامیاب اور بامراد ہو جاتے ہیں۔تیسرے وہ لوگ ہیں ، جنہوں نے دین العجائز کی حالت میں رہنا پسند نہ کیا۔اور اس سے آگے بڑھے۔اور معرفت میں قدم رکھا۔مگر اس منزل کو نباہ نہ سکے۔اور راہ ہی میں ٹھوکر کھا کر گر گئے۔یہ وہ لوگ ہیں ، جو نہ اِدھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے۔ان لوگوں کی مثال اُس آدمی کی طرح ہے۔جس کو پیاس لگی ہوئی تھی اور اُس کے پاس کچھ پانی تھا۔پر وہ پانی گدلا تھا۔تاہم اگر وہ پی لیتا تو مرنے سے بچ جاتا۔کسی نے اُس کو خبر دی۔کہ پانچ سات کوس کے فاصلہ پر ایک چشمہ صاف ہے۔پس اُس نے وہ پانی جو اُس کے پاس تھا۔پھینک دیا۔اور وہ صاف چشمہ کے واسطے آگے بڑھا۔پر اپنی بے صبری اور بدبختی اور ضلالت کے سبب وہاں نہ پہنچ سکا۔دیکھو اس کا کیا حال ہوا۔وہ ہلاک ہو گیا۔اور اس کی ہلاکت نہایت ہولناک ہوئی۔یا ان حالتوں کی مثال اس طرح ہے کہ ایک کنواں کھودا جا رہا ہے۔پہلے تو وہ صرف ایک گڑہا ہے۔جس سے کچھ فائدہ نہیں۔بلکہ آنے جانے والوں کے واسطے اُس میں گر کر تکلیف اُٹھانے کا خطرہ ہے۔پھر وہ اور کھودا گیا۔یہاں تک کہ کیچڑ اور خراب پانی تک وہ پہنچا۔پر وہ کچھ فائدہ مند نہیں۔پھر جب وہ کامل ہوا اور اس کا پانی صاف ہو گیا۔تو