ذکر حبیب — Page 198
198 باب ہشتم سولہ ڈائریاں مشتمل بر حالات و تقریرات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام تحریر کردہ عاجز راقم جو اخبارات میں چھپتی رہیں بطور نمونہ ڈائر کی حضرت امام ہمام علیہ الصلوۃ والسلام جب عاجز راقم 1901ء میں ہجرت کر کے قادیان چلا آیا۔تو میری عادت تھی کہ کاغذ پنسل اپنے پاس رکھتا تھا۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسّلام کی صحبت میں جو باتیں ہوتیں ، انہیں نوٹ کر لیتا۔اور بعد میں ترتیب دے کر اخبار میں زیر عنوان ”ڈائری، چھپوا دیتا۔اُس وقت سلسلہ حقہ کا ایک ہی اخبار تھا۔یعنی الحکم۔اُن میں سے سولہ ڈائریاں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پاک صحبتوں اور مقدس کلام کا نمونہ ہیں۔درج ذیل کی جاتی ہیں۔الہام کے درجات اپریل ۱۹۰۱ء۔منشی الہی بخش صاحب وغیرہ لوگوں کی اپنی بعض حالتوں سے دھوکا کھا جانے کی نسبت گفتگو تھی۔اس پر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ عام طور پر رؤیاء اور کشف اور الہام ابتدائی حالت میں ہر ایک کو ہوتے ہیں۔مگر اس سے انسان کو یہ دھوکا نہ کھانا چاہئیے کہ وہ منزل مقصود کو پہنچ گیا ہے۔اصل میں بات یہ ہے کہ فطرت انسانی میں یہ قوت رکھی گئی ہے کہ ہر ایک شخص کو کوئی خواب یا کشف یا الہام ہو سکے۔چنانچہ دیکھا گیا ہے کہ بعض دفعہ کفار ہنود اور بعض فاسق فاجر لوگوں کو بھی خوا میں آتی ہیں۔اور بعض دفعہ سچی بھی ہو جاتی ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے خود ان لوگوں کے درمیان اس حالت کا کچھ نمونہ رکھ دیا ہے جو کہ اولیاء اللہ اور انبیاء میں کامل طور پر ہوتا ہے۔تا کہ یہ لوگ انبیاء کا صاف انکار نہ کر بیٹھیں کہ ہم اس علم سے بے خبر ہیں۔اتمام محبت کے طور پر یہ بات ان لوگوں کو دی گئی ہے۔تا کہ انبیاء کے دعاوی کوسن کر حریف اقرار کر لے کہ ایسا ہوتا ہے اور ہوسکتا ہے کیونکہ جس بات سے انسان بالکل نا آشنا ہوتا ہے۔اس کا وہ جلدی