ذکر حبیب — Page 159
159 میں بعد تسبیح ، سجدہ میں بعد تسبیح ، التحیات کے بعد کھڑے ہو کر ، رکوع کے بعد بہت دُعائیں کرو تا کہ مالا مال ہو جاؤ۔چاہئیے کہ دُعا کے وقت آستانہ الوہیت پر رُوح پانی کی طرح بہہ جائے۔ایسی دُعا دل کو پاک وصاف کر دیتی ہے۔یہ دُعا میسر آوے، تو پھر خواہ انسان چار پہر دُعا میں کھڑا ر ہے۔گنا ہوں کی گرفتاری سے بچنے کے واسطے اللہ تعالیٰ کے حضور میں دُعائیں مانگنی چاہئیں۔دُعا ایک علاج ہے جس سے گناہ کی زہر دور ہو جاتی ہے۔بعض نادان لوگ خیال کرتے ہیں کہ اپنی زبان میں دعا مانگنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔یہ غلط خیال ہے۔ایسے لوگوں کی نماز تو خود ہی ٹوٹی ہوئی ہے۔(۵۷) انبیاء کی خلوت پسندی فرمایا کرتے ” مجھے تو اللہ تعالیٰ کی محبت نے ایسی محویت دی تھی کہ تمام دنیا سے الگ ہو بیٹھا تھا۔تمام چیزیں سوائے اُس کے مجھے ہرگز نہ بھاتی تھیں۔میں ہرگز ہرگز حجرہ سے باہر قدم رکھنا نہیں اہتا تھا۔میں نے ایک لمحہ بھی شہرت کو پسند نہیں کیا۔میں بالکل تنہائی میں تھا اور تنہائی ہی مجھ کو بھاتی تھی۔ٹھہرت اور جماعت کو جس نفرت سے میں دیکھتا تھا۔اس کو خدا ہی جانتا ہے۔میں تو طبعا گمنامی کو چا ہتا تھا اور یہی میری آرزو تھی۔خدا نے مجھ پر جبر کر کے اس سے مجھے باہر نکا لا۔میری ہرگز مرضی نہ تھی مگر اُس نے میری خلاف مرضی کیا کیونکہ وہ ایک کام لینا چاہتا تھا۔اُس کام کے لئے اُس نے مجھے پسند کیا اور اپنے فضل سے مجھ کو اس عہدہ جلیلہ پر مامور فرمایا۔یہ اسی کا اپنا انتخاب اور کام ہے۔میرا اس میں کچھ دخل نہیں۔میں تو دیکھتا ہوں کہ میری طبیعت اس طرح واقع ہوئی ہیشہرت اور جماعت سے کوسوں بھاگتی ہے اور مجھے سمجھ نہیں آتا کہ لوگ کس طرح شہرت کی آرزو رکھتے ہیں۔میری طبیعت اور طرف جاتی تھی لیکن خدا مجھے اور طرف لے جاتا تھا۔میں نے بار بار دعائیں کیں مجھے گوشہ میں ہی رہنے دیا جائے۔مجھے میرے خلوت کے حجرے میں چھوڑ دیا جائے لیکن بار بار یہی حکم ہوا کہ اس سے نکلو اور دین کا کام جو اس وقت سخت مصیبت کی حالت میں تھا ، اس کو سنوار و۔انبیاء کی طبیعت اس طرح واقع ہوئی ہیوہ شہرت کی خواہش نہیں کیا کرتے۔کسی نبی نے کبھی شہرت کی خواہش نہیں کی۔ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی خلوت اور تنہائی کو ہی پسند کرتے تھے۔آپ عبادت کے لئے لوگوں سے دُور تنہائی کی غار میں جو غار حرا تھی چلے جاتے تھے۔یہ غار اس قدر خوفناک تھی کہ کوئی انسان وہاں جانے کی جرات نہ کر سکتا تھا لیکن آپ نے اس کو اس لئے پسند کیا ہوا تھا کہ وہاں کوئی ڈر کے مارے بھی نہ پہنچے گا۔آپ بالکل تنہائی چاہتے تھے شہرت کو ہرگز پسند نہیں کرتے تھے مگر خدا کا حکم ہوا۔يَأَيُّهَا المُدَّثِرُ قُم فَانُذِر۔اس حکم میں ایک جبر معلوم ہوتا ہے اور