ذکر حبیب — Page 158
158 اختیار کر لے۔ہم اس بات سے منع نہیں کرتے کہ ملازم اپنی ملازمت کرے تاجر اپنی تجارت میں مصروف رہے اور زمیندار اپنی کاشت کا انتظام کرے لیکن ہم یہ کہتے ہیں کہ انسان کو ایسا ہونا چاہئیے که دست در کار و دل بایار۔اِنسان خدا تعالیٰ کی رضامندی پر چلے۔کسی معاملہ میں شریعت کے بر خلاف کوئی کام نہ کرے۔جب خدا مقدم ہو تو اسی میں انسان کی نجات ہے۔دُنیا داروں میں مداہنہ کی عادت بہت بڑھ گئی ہے جس مذہب والے سے ملے۔اُسی کی تعریف کر دی۔خدا تعالیٰ اِس سے راضی نہیں۔صحابہ میں بعض بڑے دولت مند تھے اور دُنیا کے تمام کا روبار کرتے تھے اور اسلام میں بہت سے بادشاہ گذرے ہیں جو درویش سیرت تھے۔تخت شاہی پر بیٹھے ہوئے تھے لیکن دل ہر وقت خدا کے ساتھ رہتا تھا مگر آج کل تو لوگوں کا یہ حال ہے کہ جب دُنیا کی طرف جھکتے ہیں ، تو ایسے دُنیا کے ہو جاتے ہیں دین پر ہنسی کرتے ہیں۔نماز پر اعتراض کرتے ہیں اور وضو پر جنسی اُڑاتے ہیں۔یہ لوگ ساری عمر تو دنیوی علوم کے پڑھنے میں گزار دیتے ہیں اور پھر دین کے معاملات میں رائے زنی کرنے لگتے ہیں حالانکہ انسان کسی مضمون میں عمیق اسرار تب ہی نکال سکتا ہے۔جب اُس کو اس امر کی طرف زیادہ توجہ ہو۔ان لوگوں کو دین کے متعلق مصالح معارف اور حقائق سے بالکل بے خبری ہے۔دُنیا کی زہریلی ہوا کا ان لوگوں کے دلوں پر زہر ناک اثر ہے۔(۵۶) اپنی زبان میں دُعا فرمایا کرتے ”نماز کے اندر اپنی زبان میں دُعا مانگنی چاہئیے کیونکہ اپنی زبان میں دعا مانگنے سے پورا جوش پیدا ہوتا ہے۔سورہ فاتحہ خدا تعالیٰ کا کلام ہے۔وہ اسی طرح عربی زبان میں پڑھنا چاہیے اور قرآن شریف کا حصہ جو اس کے بعد پڑھا جاتا ہے۔وہ بھی عربی زبان میں ہی پڑھنا چاہیئے اور اس کے بعد مقررہ دُعائیں اور تسبیح بھی اسی طرح عربی زبان میں پڑھنی چاہئیں لیکن ان سب کا ترجمہ سیکھ لینا چاہئیے اور ان کے علاوہ پھر اپنی زبان میں دُعائیں مانگنی چاہئیں تا کہ حضور دل پیدا ہو جائے کیونکہ جس نماز میں حضور دل نہیں وہ نماز نہیں آج کل لوگوں کی عادت ہے کہ نماز تو ٹھونگیدار پڑھ لیتے ہیں جلدی جلدی نماز کو ادا کر لیتے ہیں۔جیسا کہ کوئی بیگار ہوتی ہے۔پھر پیچھے سے لمبی لمبی دُعائیں مانگنا شروع کرتے ہیں۔یہ بدعت ہے۔حدیث شریف میں کسی جگہ اس کا ذکر نہیں آیا کہ نماز سے سلام پھیر نے کے بعد پھر دُعا کی جائے۔نادان لوگ نماز کو تو ٹیکس جانتے ہیں اور دُعا کو اس سے علیحدہ کرتے ہیں۔نماز خود دُعا ہے۔دین و دنیا کی تمام مشکلات کے واسطے اور ہر ایک مصیبت کے وقت انسان کو نماز کے اندر دُعائیں مانگنی چاہئیں۔نماز کے اندر ہر موقع پر دُعا کی جاسکتی ہے۔رکوع