ذکر حبیب — Page 157
157 (۵۲) الیاس ثانی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسّلام فرمایا کرتے تھے کہ سید احمد صاحب کا وجو دہم سے قبل ایسا ہی تھا جیسا کہ عیسی ابن مریم سے قبل حضرت یحی نبی کا وجود۔انہوں نے سکھوں سے جہاد کیا اور مسلمانوں کو ان کے مظالم بچانے کی کوشش کی مگر انگریزوں کے خلاف انہوں نے کوئی جنگ نہیں کی۔(۵۳) نظم سننے کا فائدہ فرمایا کرتے تھے کہ کسی عمدہ نظم یا اشعار کے سُنے سے بھی بعض دفعہ کسی کے دل سے غفلت کے جندرے ( قفل ) کھل جاتے ہیں اور بیداری پیدا ہو جاتی ہے۔حضور کی مجلس میں بعض دفعہ خوش الحانی سے حضور کی اپنی نظمیں یا اور کوئی صوفیانہ کلام سنایا جاتا تھا۔فرمایا کرتے تھے ” ہماری جماعت اگر جماعت بننا چاہتی ہے تو اسے چاہئیے کہ ایک موت اختیار کرے۔نفسانی امور اور نفسانی اغراض سے بچے اور اللہ تعالیٰ کو سب سے پر مقدم رکھے۔(۵۴) حقیقت عرش عرش کے متعلق فرمایا کرتے تھے عرش کوئی ایسی چیز نہیں ہے جسے مخلوق کہہ سکیں۔خدا تعالیٰ کے تقدس وتنزہ کا وراء الوراء جو مقام ہے۔اُس کا نام عرش ہے۔یہ مطلب نہیں کہ ایک تخت بچھا ہے اور اس پر اللہ بیٹھا ہے۔جاہل نہیں سمجھتے اگر قرآن میں ایک طرف الرحمن علی العرش استویٰ ہے تو دوسری طرف یہ بھی ہے کہ کوئی تین نہیں جس میں چوتھا وہ نہیں۔اور کوئی پانچ نہیں جس میں چھٹا وہ نہیں اور فرمایا کہ جہاں کہیں تم ہو۔میں تمہارے ساتھ ہوں۔پھر یہ کہ خدا ہر شے پر محیط ہے۔پس اللہ کا یہ منشاء نہیں کہ واقعی وہ ایک تخت پر بیٹھا ہے۔اس سے یہ مُراد ہے کہ وہ وراء الوراء مقام جہاں مخلوقات کی انتہاء ہے۔یعنی وہ نقطہ جہاں جہاں ختم ہوتا ہے۔ایک تنز یہ ہوتی ہے۔ایک تشبیہ۔جب کہا میں تمہارے ساتھ ہوں اور ہر چیز پر محیط تو یہ تشبیہ ہے۔اب چونکہ تشبیہ کے مقام پر دھو کہ لگتا تھا کہ خدا محدود اور مخلوقات میں ہے۔اس لئے فرما دیا۔ذو العرش العظیم۔یعنی سمجھایا کہ یہ اس کے تقدس وننز ہ کا مقام ہے، نہ یہ کہ کوئی چاندی یا سونے کا تخت ہے۔قرآن میں استعارے بہت ہیں۔(۵۵) ترک دنیا فرمایا کرتے ترک دُنیا کے یہ معنے نہیں ہیں کہ انسان سب کام کاج چھوڑ کر گوشہ نشینی