ذکر حبیب — Page 110
110 کیسے لوگوں کی ضرورت ۲۶ دسمبر ۱۹۰۵ ء وقت صبح۔مدرسہ کے متعلق اصلاح کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا میں چاہتا ہوں کہ ہماری جماعت کے واسطے ایسے لوگ طیار ہونے چاہئیں جن کو واقعی دین کی خبر ہوا اور اس لائق ہوں کہ بیرونی حملات کو دور کر سکیں اور اندرونی بدعات اور جہالت کا انسداد کر سکیں۔ہماری مخالفت کیوں ہے دسمبر ۱۹۰۵ء۔فرمایا یہ ایک بڑے ابتلاء کا وقت ہے۔ہر طرف سے ہم کا فرٹھیرائے گئے ہیں اور سب کے درمیان ہم کراہت کی نگاہ سے دیکھے گئے ہیں۔حال کے مخالف علماء کا یہ فتوے ہے کہ ہم ان کے قبرستان میں داخل ہونے کے لائق بھی نہیں ہیں اور اندرونی قوم کا یہ حال ہے اور رونی قومیں اور مذاہب سب کے سب ہماری جماعت کو خصوصیت کے ساتھ بُرا جانتے ہیں اور ایک قسم کی ذاتی عداوت ہمارے ساتھ رکھتے ہیں جو اسلام کے دیگر فرقوں کے ساتھ اُن کو نہیں ہے۔پادریوں کے سینے پر ہماری جماعت ایک بھاری پتھر کی طرح ہے اور آریوں کو بھی سخت دشمن ہم ہی معلوم ہوتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں کو بخوبی معلوم ہو گیا ہے کہ کمر بستہ ہو کر وساوس اور اعتراضات اور کفر کے طریقوں کو دور کرنا صرف اس جماعت کا کام ہے اور دوسرے کا نہیں۔اس کا سبب یہ ہے کہ ہم میں نفاق نہیں۔جو لوگ خاص خدا کے واسطے کام کرتے ہیں اُن کا کام منافقانہ نہیں ہوتا اور وہ ہر ایک کی ہاں میں ہاں نہیں ملاتے۔یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم کس طرح اخلاص کے ساتھ کام کرنے والے ہیں۔اس واسطے ہم انہیں طبعاً بُرے لگتے ہیں۔فطر تا دلوں کا عکس ایک دوسرے پر پڑتا ہے۔ایک بکری کے بچے کو اگر شیر کے پاس باندھ دیا جاوے تو خواہ اُس بچے نے ساری عمر بھی شیر کو پہلے نہ دیکھا ہو تو پھر بھی فطرتا وہ اُس سے خوف زدہ ہو جائے گا۔ہمارے مخالفین کی فطرت یہ گواہی دیتی ہے کہ اگر کسی روز ان کے مذہب کا استیصال ہوگا تو اسی جماعت کے ہاتھوں ہوگا اور در حقیقت سچ یہی ہے۔جو بات آسمان سے نازل ہوتی ہے وہ در پردہ نہیں رہتی بلکہ اس کا اثر تمام دُنیا پر پڑتا ہے۔کافر کا دل محسوس کر لیتا ہے کہ کفر توڑنے والا کون ہے۔جب حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تو جس قدر دشمنی آپ کے ساتھ کی گئی۔اور آپ کو دُکھ اور تکالیف پہنچائی گئیں اس قدر مخالفت مسیلمہ کذاب کی نہیں ہوئی۔اس کا سبب یہی تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تمام کفر بدعات اور شرک کا استیصال کرتے تھے اور مسلمہ تو خود ہی کا فر تھا۔حق کی بات منجانب اللہ ہوتی ہے۔اس وقت ہم غریب ہیں اور بے کس ہیں اور خدا کے سوائے اور کوئی ہمارا ساتھی نہیں۔ہمیشہ یہ کوشش کی جاتی ہے کہ یہ قوم نابود کر دی جائے۔بیرونی لوگ مقدمات بناتے اور اندرونی