ذکر حبیب

by Other Authors

Page 105 of 381

ذکر حبیب — Page 105

105 ہیں ، نہایت مردود اور شیطان کے بہن بھائی ہیں کیونکہ وہ خدا اور رسول کے فرمودہ سے منہ پھیر کر اپنے رب کریم سے لڑائی کرنا چاہتے ہیں اور اگر کسی نیک دل مسلمان کے گھر میں ایسی بدذات بیوی ہو تو اُسے مناسب ہے کہ اس کو سزا دینے کے لئے دوسرا نکاح ضرور کرے۔بعض جاہل مسلمان اپنے ناطہ رشتہ کے وقت یہ دیکھ لیتے ہیں کہ جس کے ساتھ اپنی لڑکی کا نکاح کرنا منظور ہے اس کی پہلی بیوی بھی ہے یا نہیں۔پس اگر پہلی بیوی موجود ہو تو ایسے شخص سے ہرگز نکاح کرنا نہیں چاہتے۔سو یا د رکھنا چاہیے کہ ایسے لوگ بھی صرف نام کے مسلمان ہیں اور ایک طور سے وہ اُن عورتوں کے مددگار ہیں جو اپنے خاوندوں کے دوسرے نکاح سے ناراض ہوتی ہیں۔سوان کو بھی خدا تعالیٰ سے ڈرنا چاہئیے۔ترک دنیا فرمایا : جو لوگ خدا کی طرف سے آتے ہیں وہ دُنیا کو ترک کرتے ہیں۔اس سے یہ مُراد ہے کہ وہ دُنیا کو اپنا مقصود اور غایت نہیں ٹھیراتے اور دُنیا اُن کی خادم اور غلام ہو جاتی ہے جو لوگ بر خلاف اس کے دُنیا کو اپنا اصل مقصو د ٹھیراتے ہیں خواہ وہ دُنیا کو کسی قدر بھی حاصل کر لیں مگر آخر کار ذلیل ہوتے ہیں۔نزول روح القدس اگست ۱۹۰۵ء۔فرمایا: اللہ تعالیٰ کی طرف سے رُوح الامین کا نزول انسان پر اُس وقت ہوتا ہے جبکہ انسان خود تقدس اور تطہیر کے درجہ کو حاصل کر کے اپنے اندر بھی ایک حالت پیدا کرتا ہے جونزول رُوح الامین کے قابل ہوتی ہے۔اُس وقت گویا ایک رُوح الامین اِدھر ہوتا ہے تب ایک اُدھر سے آتا ہے۔یہ بات ہم اپنے حال اور اپنے تجربہ سے کہتے ہیں نہ کہ صرف قال ہی قال ہے۔اس کی بجلی کے ساتھ خوب مثال مطابق آ سکتی ہے۔جب کسی جسم میں خود بھی بجلی ہوتی ہے تو آسمانی بجلی اس پر اثر کرتی ہے۔تدبر سے دیکھا جائے تو قرآن شریف سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے۔سچی تہذیب ا ۱۰ / اگست ۱۹۰۵ء۔فرمایا ” آج کل لوگوں کے خیال میں تہذیب یہ ہے کہ انسان دُنیا کا کیڑا بن جائے۔خدا کو بھول جائے اور ظاہری اسباب کی پرستش میں لگ جائے مگر خدا تعالیٰ کے نزدیک تہذیب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پر پورا بھروسہ حاصل ہو جائے اور اس کی عظمت اور ہیبت دل میں بیٹھ جائے اور دل کو سچی پاکیزگی حاصل ہو جائے۔