ذکر حبیب — Page 91
91 کثرت اولا د سے جماعت کو بڑھا دیں۔مگر شرط یہ ہے کہ پہلی بیوی کے ساتھ دوسری بیوی کی نسبت زیادہ اچھا سلوک کریں تا کہ اُسے تکلیف نہ ہو۔دوسری بیوی پہلی بیوی کو اسی لئے ناگوار معلوم ہوتی ہے کہ وہ خیال کرتی ہے کہ میری غور و پرداخت اور حقوق میں کمی کی جائے گی مگر میری جماعت کو اِس طرح نہ کرنا چاہئیے۔اگر چہ عورتیں اس بات سے ناراض ہوتی ہیں مگر میں تو یہی تعلیم دوں گا۔ہاں یہ شرط ساتھ رہے گی کہ پہلی بیوی کی غور و پرداخت اور اس کے حقوق دوسری کی نسبت زیادہ توجہ اور غور سے ادا ہوں اور دوسری کی نسبت پہلی کو زیادہ خوش رکھنے کی کوشش کی جائے۔“ کچی تو به ۱۹ء۔فرمایا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بچی تو بہ کرنے سے انسان بالکل معصوم ہو جاتا ہے گویا اُس نے کبھی کوئی گناہ کیا ہی نہ تھا۔سچی توبہ کے بعد چاہیے کہ انسان اپنا معاملہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ صاف رکھے تا کہ کوئی حزن اور غم اُس کے نزدیک نہ پھٹکے کیونکہ اس سے انسان ولی بن جاتا ہے۔إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوفَ عَلَيْهِمْ وَلَاهُمْ يَحْزَنُونُ - خدا تعالیٰ جب کسی کو اپنا ولی بناتا ہے تو ہزاروں گناہ اور امراض سے اُسے بچاتا ہے۔نہ صرف اُسے بلکہ اُس کے اہل وعیال کا بھی کفیل ہو جاتا ہے اور یہی نہیں بلکہ جن مکانوں میں اور زمینوں میں وہ رہتے ہیں اُن میں ایک برکت دی جاتی ہے اور ان کے کپڑوں میں برکت دی جاتی ہے۔ممکن ہے کہ سابقہ زندگی میں کسی سے صغائر یا کبائر سرزد ہوئے ہوں لیکن بچے تعلق اور صاف معاملہ پر اللہ تعالی گل گناہ بخش دیتا ہے حتی کہ اُسے یاد تک نہیں دلاتا کہ تجھ سے یہ گناہ سرزد ہوئے ہیں، نہ اُس کو کہیں شرمندہ ہونے دیتا ہے۔یہ اُس کا فضل اور احسان ہے۔درازی عمر کا نسخہ ۱۹۰۴ ء ایک دفعہ فرمایا اگر انسان چاہتا ہے کہ لمبی عمر پائے تو اپنا کچھ وقت اخلاص کے ساتھ دین کے لئے وقف کرے۔خدا کے ساتھ معاملہ صاف ہونا چاہئیے۔وہ دلوں کی نیت کو جانتا ہے۔درازی عمر کے واسطے یہ مفید ہے کہ انسان دین کا ایک وفادار خادم بن کر کوئی نمایاں کام کرے۔آج دین کو اس بات کی ضرورت ہے کہ کوئی اُس کا بنے اور اس کی خدمت کرے۔“ تاکید نماز ۱۹۰۴ء - فرمایا : نماز خدا کا حق ہے اسے خوب ادا کرو اور خدا کے دشمن سے مداہنہ کی