ذکر حبیب

by Other Authors

Page 90 of 381

ذکر حبیب — Page 90

90 ڈاکٹر عبدالحکیم وڈاکٹر رشید الدین صاحب مرحوم غالبا ۱۹۰۲ء یا ۱۹۰۳ء کا واقعہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مجلس میں ڈاکٹر عبد الحکیم کا ذکر آیا کہ وہ ہمیشہ کسی نہ کسی تصنیف کے کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔ڈاکٹر صاحب اس وقت ابھی مُرتد نہیں ہوئے تھے۔حضرت مولوی نور الدین صاحب رضی اللہ عنہ نے عرض کی ڈاکٹر عبدالحکیم تو اپنا وقت کسی تصنیف کے کام میں لگائے رکھتے ہیں لیکن مجھے ڈاکٹر رشید الدین صاحب سے یہ سُن کر تعجب ہوا کہ اُنہوں نے کہا کہ مجھے کسولی کے پہاڑ پر لگایا گیا ہے جہاں کام بہت کم ہونے کی وجہ سے میں حیران تھا کہ وقت کس طرح سے گزاروں اور آخر بہت سوچ کر روزانہ اخبار سول ملٹری منگوانا شروع کیا۔تب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ مولوی صاحب ڈاکٹر عبدالحکیم ایک دُنیا دار آدمی ہے اُسے کتابوں کے بیچنے اور روپیہ کمانے کی فکر رہتی ہے لیکن خلیفہ رشید الدین صاحب ایک درویش آدمی ہیں جو دُنیا جمع کرنے کی فکر نہیں رکھتے۔سال ۱۹۰۴ء ١٩٠٤ء کثرت ازدواج کی اجازت جنوری ۱۹۰۴ء۔فرمایا ” بڑی خوش قسمتی یہ ہے کہ انسان کو حقیقی طور پر معلوم ہو جائے کہ خدا ہے جس قدر جرائم ، معاصی اور غفلت وغیرہ ہوتی ہے، ان سب کی جڑ خدا شناسی میں نقص ہے۔اسی نقص کی وجہ سے گناہ میں دلیری ہوتی ہے۔بدی کی طرف رجوع ہوتا ہے اور آخر کار بد چلنی کی وجہ سے مثلاً آ تشک کی نوبت آتی ہے پھر اس سے جزام ہوتا ہے جس سے نوبت موت تک پہنچتی ہے۔حالانکہ بد کار آدمی اگر بد کاری میں لذت حاصل نہ کرے تو خدا اُسے کسی اور طریق سے لذت دے دے گا اور اس کے جائز وسائل بہم پہنچا دے گا۔مثلاً اگر چور چوری کرنا ترک کر دے تو خدا اُسے مقدار رزق ایسے طریق سے دے گا جو حلال ہو اور حرامکار حرامکاری نہ کرے تو خدا نے اس پر حلال عورتوں کا دروازہ بند نہیں کر دیا۔اس لئے بدکاری اور بد نظری سے بچنے کے لئے ہم نے اپنی جماعت کو کثرت ازدواج کی بھی نصیحت کی ہے کہ تقویٰ کے لحاظ سے اگر وہ ایک سے زیادہ بیویاں کرنی چاہیں تو کر لیں مگر خدا کی معصیت کے مرتکب نہ ہوں۔پہلی بیوی کے حقوق فرمایا۔” میرا تو یہی جی چاہتا ہے کہ میری جماعت کے لوگ کثرت ازدواج کریں اور