ذکر حبیب — Page 87
87 گنے سے کھانسی کا علاج سفر گورداسپور میں ۱۹۰۳ء میں ایک دفعہ حضرت صاحب کو کھانسی کی شکایت تھی۔میں نے عرض کی کہ میرے والد مرحوم اس کا علاج گرم کیا ہوا گنا بتلا یا کرتے تھے۔تب حضور کے فرمانے ا سے ایک گنا چند پوریاں لے کر آگ پر گرم کیا گیا اور اس کی گنڈیریاں بنا کر حضور کو دی گئیں اور حضور نے چوسیں۔گل محمد عیسائی اگست ۱۹۰۳ء میں بنوں کا ایک عیسائی گل محمد نام قادیان آیا۔بہت گستاخی سے جھگڑتا اور بحث کرتا رہا اور اسی حالت میں چلا گیا۔اُس کے چلا جانے کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک رؤیا دیکھا کہ گل محمد آنکھوں میں سرمہ لگا رہا ہے۔فرمایا معلوم ہوتا ہے کہ اُسے ہدایت ہو جائے گی۔چنانچہ بہت سالوں کے بعد سُنا گیا تھا کہ اُس نے پھر اسلام قبول کیا تھا۔بنوں کے مشہور ڈاکٹر پینل کی بیوہ نے بھی مجھے اپنے کارڈ میں لکھا ہے کہ گل محمد نے عیسائیت کو ترک کر دیا تھا اور اپنے پہلے مذہب میں داخل ہو گیا تھا۔جب گل محمد کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سامنے ایک تحریر ہونے لگی جس میں غالباً اس قسم کا کچھ اقرار تھا کہ گل محمد دوبارہ کب آوے اور اس کے ساتھ کس طرح گفتگو ہو تو گل محمد نے اصرار کیا کہ اُس کے نام کے ساتھ مولوی کا لفظ لکھا جائے۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسّلام نے فرمایا مولوی ایک عزت کا لفظ ہے جو مسلمانوں کے لئے خاص ہے۔آپ کے نام کے ساتھ ہم یہ لفظ نہیں لکھ سکتے۔تھوڑی بحث کے بعد یہ طے پایا کہ اس کے نام کے ساتھ مسٹر کا لفظ لکھا جائے۔ہوتے مسئلہ شفاعت بہت صفائی سے حل ہو گیا اکتوبر ۱۹۰۳ ء - ہمارے مکرم خان صاحب محمد علی خان صاحب کا چھوٹا لڑکا عبدالرحیم سخت بیمار ہو گیا۔چودہ روز ایک ہی تپ لازم حال رہا اور اس پر حواس میں فتور اور سخت بے ہوشی رہی۔آخر نوبت احتراق تک پہنچ گئی۔میرے مخدوم مکرم مولوی نورالدین صاحب فرماتے تھے کہ عبدالرحیم کے علاج میں غیر معمولی توجہ انہیں پیدا ہوئی اور اُن کے علم نے اپنی پوری اور وسیع طاقت سے کام لیا مگر ضعف اور بجز کا اعتراف کر کے بجز سپر انداز ہو جانے کے کوئی راہ نظر نہ آتی تھی۔حضرت خلیفتہ اللہ علیہ السلام کو ہر روز دُعا کے لئے توجہ دلائی جاتی تھی اور وہ کرتے تھے۔