ذکر حبیب — Page 355
355 اس کے موافق اپنے آپ کو بناؤ۔پھر یہ چند روزہ زندگی ہے ایک دن آتا ہے کہ نہ ہم ہوں گے اور نہ تم ؟ فرمایا اللہ تعالیٰ تزکیۂ نفس چاہتا ہے۔جو شخص رعونت ، تکبر ، ریا کاری ، سریع العضمی کی عادت رکھتا ہے اور بیعت کرتا ہے۔مگر ان عادات کو نہیں چھوڑتا اور اپنی حالت میں تبدیلی نہیں کرتا۔اُسے بیعت سے کیا حاصل چاہئیے۔کہ اپنے نفسوں میں تبدیلی کرو اور اخلاق کا اعلیٰ نمونہ حاصل کرو۔بُردباری اختیار کرو۔بیویوں سے عمدہ معاشرت کرو۔ہمسائیوں سے نیک سلوک کرو۔ان باتوں سے خُدا راضی ہوتا ہے۔“ فرمایا’ دیکھو تم لوگوں نے جو بیعت کی ہے اور اس وقت اقرار کیا ہے۔اس کا زبان سے کہہ دینا تو آسان ہے۔لیکن نبھانا مشکل ہے۔کیونکہ شیطان اسی کوشش میں لگا رہتا ہے کہ انسان کو دین سے لاپر واہ کر دے۔دُنیا اور اس کے فوائد کو تو وہ آسان دکھاتا ہے اور دین کو بہت دُور۔اس طرح سے دل سخت ہو جاتا ہے اور پچھلا حال پہلے سے بدتر ہو جاتا ہے۔اگر خُدا کو راضی کرنا ہے تو اس گناہ سے بچنے کے اقرار کو نبھانے کے لئے ہمت اور کوشش سے تیار رہو۔“ فرمایا ” فتنہ کی کوئی بات نہ کرو۔شر نہ پھیلاؤ۔گالی پر صبر کرو۔کسی کا مقابلہ نہ کرو۔جو مقابلہ کرے اس سے بھی سلوک اور نیکی کے ساتھ پیش آؤ۔شیریں بیانی کا عمدہ نمونہ دکھلاؤ۔نیچے دل سے ہر ایک حکم کی اطاعت کرو کہ خُدا راضی ہو جائے اور دشمن بھی جان لے کہ اب بیعت کر کے یہ شخص وہ نہیں رہا۔جو پہلے تھا۔مقدمات میں کچی گواہی دو۔اس سلسلہ میں داخل ہونے والے کو چاہئیے کہ پورے دل ، پوری ہمت اور ساری جان سے راستی کا پابند ہو جائے۔“ ۲۹ مارچ ۱۹۰۷ ء فرمایا : ” استقامت کے یہ معنے ہیں کہ جو عہد انسان نے کیا ہے اُسے پورے طور پر نبھائے۔یا درکھو کہ عہد کرنا آسان ہے مگر اس کا نبھانا مشکل ہے۔اس کی ایسی ہی مثال ہے کہ باغ میں تخم ڈالنا آسان ہے مگر اس کی نشو ونما کے لئے ہر ایک ضروری بات کو ملحوظ رکھنا اور آبپاشی کے اوقات پر اس کی خبر گیری کرنی مشکل ہے۔ایمان بھی ایک پودا ہے جسے اخلاص کی زمین میں بویا جاتا ہے۔اور نیک اعمال سے اس کی آبپاشی کی جاتی ہے۔اگر اس کی ہر وقت اور موسم کے لحاظ سے پوری خبر گیری نہ کی جائے تو آخر کا ر تباہ اور برباد ہو جاتا ہے۔دیکھو باغ میں کیسے ہی عمدہ پودے تم لگاؤ۔اگر لگا کر بھول جاؤ اور اسے وقت پر پانی نہ دو۔یا اس کے گر د باڑ نہ لگاؤ تو آخر کار نتیجہ یہی ہوگا کہ یا تو وہ خشک ہو جائیں گے یا ان کو چور لے جائیں گے۔ایمان کا پودا اپنے نشو ونما کے لئے اعمال صالحہ کو چاہتا ہے۔اور قرآن شریف نے جہاں ایمان کا ذکر کیا ہے، وہاں اعمال صالح کی