ذکر حبیب — Page 354
354 باب تیئیسواں بیعت کے بعد کی نصائح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام عموماً بیعت لینے کے بعد بیعت کنندوں کو کچھ نصیحت کرتے تھے۔وہ چند بعض اوقات کی نصائح بطور نمونہ درج کی جاتی ہیں : اس جماعت میں داخل ہو کر اول زندگی میں تغیر کرنا چاہئیے کہ خُدا پر ایمان سچا ہو اور وہ ہر مصیبت میں کام آئے۔پھر اس کے احکام کو نظر خفت سے نہ دیکھا جائے۔بلکہ ایک ایک حکم کی تعظیم کی جائے اور عملاً اس تعظیم کا ثبوت دیا جائے۔“ ہمہ وجوہ اسباب پر سرنگوں ہونا اور اسی پر بھروسہ کرنا اور خُدا پر تو کل چھوڑ دینا۔یہ شرک ہے۔اور گویا خدا کی ہستی سے انکار۔رعایت اس حد تک کرنی چاہیے کہ شرک لازم نہ آئے۔ہمارا مذہب یہ ہے کہ ہم رعایت اسباب سے منع نہیں کرتے مگر اس پر بھروسہ کرنے سے منع کرتے ہیں۔دست در کار دل بایار والی بات ہونی چاہئیے۔(البدر ۸/ دسمبر ۱۹۰۳ء) اگر کوئی شخص بیعت کر کے یہ خیال کرتا ہے کہ وہ ہم پر احسان کرتا ہے تو یا در ہے کہ ہم پر کوئی احسان نہیں۔بلکہ یہ خُدا کا اس پر احسان ہے کہ اس نے یہ موقعہ اُسے نصیب کیا۔سب لوگ ایک ہلاکت کے کنارہ پر پہنچے ہوئے تھے۔دین کا نام ونشان نہ تھا اور تباہ ہو رہے تھے۔خُدا نے ان کی دستگیری کی کہ یہ سلسلہ قائم کیا۔اب جو اس فائدہ سے محروم رہتا ہے وہ بے نصیب ہے لیکن جو اس کی طرف آوے اسے چاہیے کہ اپنی پوری کوشش کے بعد دُعا سے کام لیوے۔جو شخص اس خیال سے آتا ہے کہ آزمائش کرے۔کہ فلاں سچا ہے یا جھوٹا۔وہ ہمیشہ محروم رہتا ہے۔آدم سے لے کر اس وقت تک کوئی ایسی نظیر نہ پیش کر سکو گے کہ فلاں شخص فلاں نبی کے پاس آزمائش کے لئے آیا۔اور پھر اُسے ایمان نصیب ہوا ہو۔پس چاہیے کہ انسان خُدا کے آگے روئے اور راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر گریہ وزاری کرے کہ خُدا اسے حق دکھاوے۔وقت خود ایک نشان ہے اور وہ بتلا رہا ہے کہ اس وقت ایک مصلح کی ضرورت ہے۔نرا بیعت کا اقرار کوئی شے نہیں۔دُعا کرو اور ستی ہرگز نہ کرو۔جو تعلیم تم کو دی جاتی ہے۔(البدر )