ذکر حبیب

by Other Authors

Page 326 of 381

ذکر حبیب — Page 326

326 کتابوں کے ساتھ ملا جلا ہوا جادو کی طرح اپنا اثر کرتا ہے۔اور عجیب طور سے پرانے زمانے کی یاد دلاتا ہے۔لیکن جب اس کی ورق گردانی کی جائے۔تو اس کا یہ دلکش اثر اور بھی مستحکم ہو جاتا ہے۔کیونکہ مرزا غلام احمد کے لئے مبعوث فرمایا ہے۔اور وہ لکھتے ہیں کہ اُن کے ذریعہ سے ایک لاکھ آدمی کے قریب بدی کے راستے کو خیر باد کہہ چکے ہیں۔اور خدا تعالی ڈیڑھ سو سے زیادہ آسمانی نشانی اور خوارق عادت امور ہمارے ہاتھوں سے دکھا چکا ہے۔جن کی خبر اُن کے وقوعہ سے پیشتر شایع کی گئی تھی۔اور میں وہی مسیح ہوں۔جس کا وعدہ دیا گیا تھا۔ہمارا ہند وستانی دوست (مرزا غلام احمد صاحب) ایک لائق اور باعمل مسلمان کی حیثیت سے عیسوی مذہب کے بانی کی الوہیت پر غور کرتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ ایک ایسا مذہب ہے جو ایک لحظہ کے لئے بھی عقل کے سامنے نہیں ٹھہر سکتا۔اور دراصل وہ اس سے بھی زیادہ کہتا ہے کیونکہ اس نے قطعی طور پر ایک رسالہ کے دو صفحوں پر دکھایا ہے کہ مسیح صلیب پر بالکل نہیں مرا تھا۔کیونکہ جوزف آرمیتھ اسے ہوش میں لے آیا تھا۔اس وقت مسیح نے یہی مصلحت خیال کی کہ اپنے وطن کو خیر باد کہ کر مشرقی بلاد میں چلا جائے۔اور اپنی زندگی کے بقیہ دن وادی کشمیر میں گذارے۔پھر قادیان کا احمدی مسیح اپنے دلائل کو مضبوط کرنے کے واسطے ناظرین کی حیرت زدہ نظر کے سامنے ایک عجیب اثر انداز نظارہ پیش کرتا ہے۔اور جس کی مجمل تشریح ان الفاظ میں کرتا ہے۔یسوع مسیح کی قبر کوچہ خانیار سرینگر کشمیر میں (اس سے اس کی مراد وہ تصویر ہے جو کہ اس رسالہ میں مسیح کی قبر کی دی گئی ہے۔اس مسئلہ سے فراغت پا کر میرزا غلام احمد صاحب نے زمین پر ایک دور بین نظر دوڑائی ہے۔جس میں اُن کو ایک خطرناک دشمن حقیقی دجال کی بدنصیب اور مہیب شکل جان الیگزنڈر ڈوئی کے لباس میں نظر آئی ہے اور وہ ہوا ئیں جو کہ آسمان سے چلتی ہیں ،مسٹر ڈوئی کی اس پیشگوئی کی خبر مرزا صاحب کو پہنچا چکی ہیں ، جو اس نے کل مسلمانوں کی تباہی کے لئے جو اس کے صیہون میں داخل ہونے سے منکر ہیں کی ہے۔احمد اس پیشگوئی کا مختصراً یہ جواب دیتا ہے کہ مسلمان کیوں تباہ ہوں۔اور کس لئے ہزاروں کا خون کیا جائے۔ادھر میں ایک بڑی بھاری جماعت کا سردار ہوں۔ادھر تم بہت سے پیرور کھتے ہو۔اس لئے یہ سوال کہ زمین میں خدا کا خلیفہ کون ہے۔ہم دونوں میں ہی طے پا جانا چاہئیے کہ ہم اپنے اپنے خدا کو پکاریں۔پھر جس کو جواب ملے۔وہی مستحق خلافت کا قرار دیا جائے۔“ احمد کے ان فقروں میں اُنس سے بھری ہوئی ایک عجیب آواز ہے۔تا ہم اس موجودہ دُعاء اور قدیم مقابلہ میں جو بعل کے پجاریوں اور الیاس پیغمبر کے درمیان ہوا تھا۔چند باتوں کا فرق ہے