ذکر حبیب

by Other Authors

Page 320 of 381

ذکر حبیب — Page 320

320 وقت خاص میں اُس کے محبوب حقیقی کی مرضی کیا ہے۔اور اس بات کے لئے کوئی معقول وجہ تلاش کرتا ہے۔کہ کس طریق کے اختیار کرنے میں زیادہ تر خیر ہے۔جو موجب خوشنودی حضرت باری تعالیٰ جلشانہ ہے۔یا عفو میں یا انتقام میں۔سو جو عمل موجودہ حالت کے لحاظ سے قریب بصواب ہو۔اُسی کو بروئے کار لاتا ہے۔اسی طرح اس کی بخشش اور عطاء بھی سخاوت جمیلہ کے تقاضے سے نہیں ہوتی۔بلکہ اطاعت کامل کی وجہ سے ہوتی ہے۔اور اسی اطاعت کے جوش سے وقت موجودہ میں خوب سوچ لیتا ہے۔کیا اس وقت اس کی سخاوت یا ایسے شخص پر احسان و مروت مقرون بمرضی مولیٰ ہو سکتی ہے۔اور اگر نا مناسب دیکھتا ہے کہ ایک جبہ خرچ نہیں کرتا۔اور کسی ملامت کنندہ کی ملامت سے ہر گز نہیں ڈرتا۔غرض احمقانہ تقلید سے وہ کوئی کام نہیں کرتا۔بلکہ سچی اور کامل محبت کی وجہ سے اپنے آقا کا مزاجدان ہو جاتا ہے۔اور یک رنگی اور اتحاد کی روشنی جو اس کے دل میں ہے۔وہ ایک تازہ طور پر اس کو سمجھا دیتی ہے کہ اس خاص وقت میں کیونکر اور کس طرز سے کوئی کام کرنا چاہئیے۔جو مخدوم حقیقی کے منشاء کے موافق ہو۔اور چونکہ اس کو اپنے منعم حقیقی سے عشق ذاتی پیدا ہوتا ہے۔اس لئے اطاعت اور فرمانبرداری اس کے سر پر کوئی آزار رساں بوجھ نہیں ہوتا۔بلکہ وہ فرمانبرداری اس کیے لئے ایک امر طبعی کے حکم میں ہو جاتی ہے۔جو بالطبع مرغوب اور بلا تکلف و تصنع اس سے صادر ہوتی رہتی ہے۔اور جیسے اللہ جلشانہ کو اپنی خوبی اور عظمت محبوب بالطبع ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کا جلال ظاہر کرنا اس کے لئے محبوب بالطبع ہو جاتا ہے۔اور اپنے مخدوم حقیقی کی ہر ایک عادت و سیرت اس کی نظر میں ایسی پیاری ہو جاتی ہے کہ جیسے خود اس کو پیاری ہے۔سو یہ مقام ان لوگوں کو حاصل ہوتا ہے۔جن کے سینے محبت غیر سے بالکل خالی وصاف ہو جاتے ہیں۔اور خدا تعالیٰ کی رضا مندی کو ڈھونڈنے کے لئے ہر وقت جان قربان کرنے کو طیا ررہتے ہیں۔سیلنہ مے باید تهی از غیر یار دل ہمی باید پر از یاد نگار جاں ہمی باید براه او فدا سر بھی باید بپائے او شار بیچ میدانی چیست دین عاشقاں گوئمت گر بشنوی عشاق وار عالم فروبستن نظر لوح دل شستن ز غیر دوستدار قرب کی دوسری قسم ولد اور والد کی تشبہ سے مناسبت رکھتی ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے از ہمہ فرمایا ہے فاذكروا الله كذكركم آباء كم او اشد ذکر ا یعنی اپنے اللہ جل شانہ کو ایسے دلی جوش اور محبت سے یاد کرو۔جیسا کہ باپوں کو یاد کیا جاتا ہے۔یا درکھنا چاہئیے کہ مخدوم اس وقت باپ سے مشابہ ہو جاتا ہے جب محبت میں غایت درجہ کی شدت واقعہ ہو جاتی ہے اور محبت جو ہر یک کدورت