ذکر حبیب — Page 305
305 میں قائم ہوا۔جس میں چھ ہزار روپیہ چندہ بھی جمع ہوا۔لیکن میں نے حاجی صاحب سے کہہ دیا کہ ابھی ویب صاحب کو عہدہ سے علیحدہ ہونے کو نہ لکھو۔جب تک چندہ پو را جمع نہ ہو لے۔حاجی صاحب نے اپنے جوش میں میری نہ سنی۔اور بمبئی سے تار دیا کہ سب ٹھیک ہے۔تم نوکری سے استعفیٰ داخل کر دو۔چنانچہ ویب صاحب نے ویسا ہی کیا۔اور ہندوستان آئے میں بمبئی سے ساتھ ہوا۔بمبئی ، پونہ، حیدر آباد، مدراس میں ساتھ رہا۔حیدر آباد میں ویب صاحب نے مجھ سے کہا کہ جناب مرزا غلام احمد صاحب کا مجھ پر بڑا احسان ہے۔انہیں کی وجہ سے میں مشرف بہ اسلام ہوا۔میں اُن سے ملنا چاہتا ہوں۔مرزا صاحب کی بدنامی وغیرہ کا جو قصہ میں نے سُنا تھا۔اُن کو سُنایا - ویب صاحب نے حضرت صاحب کو ایک خط لکھوایا۔جس کا جواب آٹھ صفحہ کا حضرت نے لکھ کر بھیجا۔اور مجھ کو لکھا کہ لفظ بلفظ ترجمہ کر کے ویب صاحب کو سُنا دیا۔چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا۔ویب صاحب نہایت شوق وادب کے ساتھ حضرت اقدس کا خط سُنتے رہے۔خط میں حضرت نے اپنے اس دعویٰ کو معہ دلیل کے لکھا تھا۔پنجاب کے علماء کی مخالفت اور عوام میں شورش کا تذکرہ تھا۔حضرت نے یہ بھی لکھا تھا کہ مجھ کو بھی تم سے ( یعنی ویب صاحب سے ) ملنے کی بڑی خواہش ہے۔ویب صاحب حاجی عبد اللہ عرب کی اور میری ایک کمیٹی ہوئی کہ کیا کرنا چاہیئے۔رائے یہی ہوئی کہ مصلحت نہیں ہے کہ ایسے وقت میں کہ ہندوستان میں چندہ جمع کرنا ہے۔ایک ایسے بدنام شخص سے ملاقات کر کے اشاعت اسلام کے کاموں میں نقصان پہنچایا جائے۔اب اس بد فیصلہ پر افسوس آتا ہے۔ویب صاحب لاہور گئے۔تو اسی خیال سے قادیان نہ گئے لیکن بہت بڑے افسوس کی بات یہ ہوئی کہ ایک شخص نے ویب صاحب سے پو چھا کہ آپ قادیان حضرت مرزا صاحب کے پاس کیوں نہیں جاتے۔تو انہوں نے یہ گستاخانہ جواب دیا کہ قادیان میں کیا رکھا ہوا ہے۔لوگوں نے ویب صاحب کے اس نا معقول جواب کو حضرت اقدس تک پہنچا بھی دیا۔غرض ہندوستان کے مشہور شہروں کی سیر کر کے ویب صاحب تو امریکہ جا کر اشاعت اسلام کے کام میں سرگرم ہو گئے۔دو ماہ تک میں ویب صاحب کے ساتھ رہا۔ویب صاحب حقیقت میں آدمی معقول ہے اور اسلام کی سچی محبت اس کے دل میں پیدا ہوگئی ہے۔مجھ سے جہاں تک ہو سکا اُن کے معلومات بڑھانے ، خیالات کج کو درست کرنے اور مسائل ضروری کی تعلیم میں کوشش کی۔اور شیخ محمد میرا ہی رکھا ہوا نام ہے۔جیسا میں نے کہا تھا ویسا ہوا۔ہندوستان کے مسلمانوں نے چندہ کا وعدہ تو کیا لیکن ادا ہوتا ہوا کہیں سے نظر نہیں آتا تھا۔حاجی عبداللہ عرب صاحب نے بہت کچھ ہاتھ پاؤں مارے۔لیکن نرود