ذکر حبیب — Page 153
153 جماعت کو چاہیے۔صاحبزادہ صاحب نے نہایت استقلال کے ساتھ سلسلہ حقہ کی خاطر اپنی جان دی اور شہادت قبول کی۔اُن کی زندگی ایک تنعم کی زندگی تھی۔مال دولت ، جاہ و ثروت سب کچھ موجود تھا اور اگر وہ امیر کا کہنا مان لیتے تو اُن کی عزت اور بڑھ جاتی مگر انہوں نے ان سب پر لات مارکر اور دیدہ و دانستہ بال بچوں کو کچل کر موت کو قبول کیا۔انہوں نے بڑا تعجب انگیز نمونہ دکھایا ہے اور اس قسم کے ایمان کو حاصل کرنے کی کوشش ہر ایک کو کرنی چاہئیے۔جماعت کو چاہیے کہ کتاب تذکرة الشہادتین کو بار بار پڑھیں اور فکر کریں اور دُعا کریں کہ ایسا ہی ایمان حاصل ہو۔“ (۴۵) مہمانوں کی تواضع حضرت صاحب مہمانوں کی خاطر داری کا بہت اہتمام رکھا کرتے تھے۔جب تک تھوڑے مہمان ہوتے تھے۔آپ خود ان کے کھانے اور رہائیش وغیرہ کا انتظام کیا کرتے تھے۔جب مہمان زیادہ ہونے لگے تو خدام حافظ حامد علی صاحب، میاں نجم الدین صاحب وغیرہ کو تاکید فرماتے رہتے تھید یکھو مہمانوں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔اُن کی تمام ضروریات خورد و نوش د ر ہائش کا خیال رکھا کرو۔بعض مہمانوں کو تم شناخت کرتے ہو بعض کو نہیں کرتے۔اس لئے مناسب ہے کہ سب کو واجب الاکرام جان کر اُن کی تواضع کرو۔سردی کے ایام میں فرمایا کرتے۔مہمانوں کو چائے پلاؤ۔ان سب کی خوب خدمت کرو۔اگر کسی کو علیحدہ کمرے یا مکان کی ضرورت ہو تو اس کا انتظام کر دو۔اگر کسی کو سردی کا خوف ہو تو لکڑی یا کوئلہ کا انتظام کر دو۔“ (۴۶) اپنے الہامات پر ناز نہ کرو؟ جب کبھی کوئی دوست اپنی خوابوں اور الہامات کا ذکر کرتا تو عموماً فرمایا کرتے تھے کہ آپ ان خوابوں اور الہامات کو اپنے لئے کسی خوبی کا باعث نہ جانیں۔یہ تو خدا کا فضل ہے۔مومن کی نیکی اس میں ہے کہ وہ اعمال صالحہ میں کوشاں رہے۔مومن کا اصل مقصد اور غرض یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ سچا اور بے ریاء تعلق اخلاص اور وفاداری کا پیدا کرے۔جہاں تک ہو سکے صدق وا خلاص و ترک ریا و ترک امنیات میں ترقی کرتے جاؤ اور مطالعہ کرتے رہو کہ ان باتوں پر تم کس حد تک قائم ہو۔صوفیاء نے لکھا ہے کہ اوائل سلوک میں جو ر ڈ یا یا وحی ہو۔اس پر توجہ ہی نہیں کرنی چاہئیے ر۔ا کیونکہ وہ اس راہ میں اکثر اوقات روک ہو جاتی ہے۔اپنے رویا اور الہام پر مدار صلاحیت نہیں رکھنا چاہئیے۔کئی آدمی دیکھے گئے ہیں کہ ان کو رؤیا اور الہامات ہوتے رہے لیکن ان کا انجام اچھا نہ ہوا۔