ذکر حبیب

by Other Authors

Page 104 of 381

ذکر حبیب — Page 104

ہے۔104 خواہش اولاد جون ۱۹۰۵ء۔فرمایا: اولاد کی خواہش صرف اس نیت سے درست ہوسکتی ہے کہ کوئی ولد صالح پیدا ہو جو بندگان خدا میں سے ہو۔انسان کو چاہیے کہ خدا سے فضل مانگتا رہے تو اللہ تعالیٰ رحیم و کریم ہے۔نیت صحیح پیدا کرنی چاہیے ورنہ اولا دہی عبث ہے۔دُنیا میں ایک بے معنی رسم چلی آتی ہے کہ لوگ اولا د مانگتے ہیں اور پھر اولا د سے دُکھ اُٹھاتے ہیں۔عدم ضرورت تناسخ جولائی ۱۹۰۵ء۔ایک آریہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ”میں یہ نہیں قبول کر سکتا کہ انسان بار بار گتے ، بلے اور سور بنتا رہتا ہے۔نہ میں یہ قبول کر سکتا ہوں کہ کوئی انسان ہمیشہ کے لئے دوزخ میں رہے گا۔خدا رحیم و کریم ہے۔میں اس خدا کو جانتا ہوں کہ جب انسان اس کے سامنے پاک دل کے ساتھ کچی صلح کے واسطے آتا ہے تو وہ اُس کے گناہوں کو بخش دیتا ہے اور اس پر رحم کرتا ہے جو پوری قربانی دیتا ہے اور اپنی زندگی خدا کے ہاتھ میں دیتا ہے خدا ضرور اُسے قبول کر لیتا ہے۔بندر اور سور بننے کا عقیدہ تو انسان کی کمر توڑ دیتا ہے۔مسلمان ہونے کے یہ معنی ہیں کہ انسان اپنی تمام عملی اور اعتقادی غلطیوں سے دست بردار ہو جائے۔عورتوں کو نصیحت فرمایا : عورتوں پر یہ بھی لازم ہے کہ بدکار اور بد وضع عورتوں کو اپنے گھروں میں نہ آنے دیں اور نہ ان کو اپنی خدمت میں رکھیں کیونکہ یہ سخت گناہ کی بات ہے کہ بد کا رعورت نیک عورت کی ہم صحبت ہو۔فرمایا: عورتوں کو یہ بھی ایک بد عادت ہوتی ہے کہ جب کسی عورت کا خاوند کسی اپنی مصلحت کے لئے دوسرا نکاح کرنا چاہتا ہے تو وہ عورت اور اُس کے اقارب سخت ناراض ہوتے ہیں اور گالیاں دیتے اور شور مچاتے ہیں اور اُس بندہ خدا کو ناحق ستاتے ہیں۔ایسی عورتیں اور ان کے اقارب نابکار اور خراب ہیں کیونکہ اللہ جلشانہ نے اپنی حکمتِ کاملہ سے جس میں صد ہا مصالحہ ہیں مردوں کو اجازت دے رکھی ہے کہ وہ اپنی کسی ضرورت یا مصلحت کے وقت چار تک بیویاں کر لیں۔پھر جو شخص اللہ اور رسول کے حکم کے مطابق کوئی نکاح کرتا ہے تو اس کو کیوں بُرا کہا جائے۔ایسی عورتیں اور ایسے ہی اس عادت والے اقارب جو خدا اور اس کے رسول کے حکموں کا مقابلہ کرتے