ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 501 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 501

501 ہو یا اور ہے۔پس میٹریل ازم (Dialectical Materialism) Materialist فلاسفی ہو جیسا کہ مغربی Capitalism کی فلاسفی بھی Materialist ہے ان میں تحفے کا مضمون بجتا نہیں ہے اور ایک بے تعلق سی چیز ہے۔اگر انسانی فطرت کی مجبوری نہ ہوتی تو ان دونوں نظاموں سے تحفے کا تصور مٹ جانا چاہیے تھا۔تحفہ یہ ہے کہ Matter جو ایک ٹھوس چیز ہے وہ دیکر اس کے بدلے ایک ایسی کیفیت حاصل کریں جس کا کوئی وجود نہیں ہے۔جو آپ کے دل کے حالات سے تعلق رکھنے والی کیفیت ہے۔جو آپ کے تصورات کی دنیا سے تعلق رکھنے والی کیفیت ہے اور اگر کامل عقل کے ساتھ اگر مارکس (Marx) کی عقل کے ساتھ آپ اس سودے کا معائنہ کریں گے تو آپ کہیں گے یہ پاگل پن ہے۔جنون ہے۔حد سے زیادہ بے وقوفی ہے۔کسی دوست سے محبت ہے تو اس کے وجود کو حاصل کرو۔اس سے جو کچھ لے سکتے ہو لو لیکن اس کو کچھ دینے کی کیا ضرورت ہے۔اور ایسے دوست کو جس سے ظاہری طور پر کچھ ملنے کی بھی توقعات نہ ہوں اس کے اوپر اپنے مال نچھاور کرنا اپنی زندگی کی محنتیں قربان کرنا نہایت درجے کی بیوقوفی ہے۔اس کے بدلہ کیا ملتا ہے؟ اس کے بدلے محبت ملتی ہے جو ایک ایسی کیفیت ہے جس کو کوئی انسان انگلی لگا کر دکھا نہیں سکتا کہ یہ محبت ہے۔نہ اس کا رنگ ہے نہ اس کا روپ ہے نہ اس کا مزا ہے نہ اس کی خوشبو ہے۔ایک کیفیت ہے اس کے سوا اس کی کوئی بھی حقیقت نہیں ہے۔پس مادی حالت کو روحانی حالت میں تبدیل کرنے کا نام تحفہ ہے جو کسی اور Transaction میں کسی اور تبادلے میں نہیں ملتا۔پس آپ نے اب تک خدا تعالیٰ سے جو تعلقات قائم کئے اس کے حضور رکوع کیا اس کے حضور محمود کئے تو آپ نے قربانیاں تو دیں اور اطاعت بھی کی لیکن کیا یہ ایک مکینیکل کی اطاعت ہے۔ایسی اطاعت ہے جیسے کسی بادشاہ کی عظمت کو قبول کر کے اس کے خوف سے اطاعت کی جاتی ہے۔خوف اطاعت کے لئے لازم ہے لیکن کافی نہیں۔حقیقی اطاعت محبت کی اطاعت ہوا کرتی ہے اور جب آپ سبحان ربی۔سبحان ربی کہتے ہیں تو یہاں محبت کے تعلق کا اقرار کر لیا گیا ہے ورنہ میرا رب میرا رب نہیں کہہ سکتے۔دنیا کا رب ٹھیک