ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 466
466 کا نشان بن جائے۔وان كثيرا من النَّاسِ عَن ابْتِنَا لَغَفِلُونَ دنیا میں اکثر ایسے لوگ ہیں جو ہمارے نشانات سے غافل ہیں۔اور اس آیت سے مختلف مفسرین نے مختلف نتائج نکالے ہیں۔آذركَهُ الْخَرَقُ کے مضمون میں وہ یہ سمجھتے ہیں یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ جب وہ غرق ہو رہا تھا تو اس وقت کی یہ دعا تھی۔اس لیئے خدا نے صرف بدن کو بچایا یعنی لاش کو بچایا اور فرعون کو نہیں بچایا۔وہ سمجھتے ہیں روح کے مقابل پر لاش سے مراد یہ ہے کہ وہ زندہ رکھا گیا اور اس کی دعا اس رنگ میں قبول ہوئی کہ اس کا بدن بعد میں باقی رہے گا۔میرے دل میں ہمیشہ اس تفسیر کے بارے میں تردد رہا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ فراعین مصر کی لاشیں تو ویسے ہی محفوظ کی جاتی تھیں۔اس لئے خدا نے اس کی کیا دعا سنی۔وہ تو دستور تھا اہل مصر کا اپنے فرعون کی لاش کو ڈھونڈھ کر جب وہ پانی اترا ہو گا تو انہوں نے ضرور اس کی می بنالی ہوگی۔اللہ تعالیٰ جو فرماتا ہے کہ ہم تیرے بدن کو محفوظ رکھیں گے اس سے مراد اسکی زندگی سمیت بدن ہے اور یہ نتیجہ نکالنا پڑے گا کہ روح نہیں بچے گی یعنی جب وہ قیامت کے دن پیش ہو گا تو اس وقت گناہ گاروں اور مجرموں کے طور پر ہی پیش ہو گا۔لیکن چونکہ اس نے عارضی زندگی کی خاطر دعا مانگی ہے اور روحانی زندگی کی خاطر نہیں مانگی۔اس لئے اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ تجھے ہم عارضی زندگی عطا کر دیں گے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔پچاس سال ٹھہرو سو سال مھر و۔لیکن بالآخر اس کے نتیجے میں تجھے معاف نہیں کریں گے۔کیونکہ جو گناہ تجھ سے سرزد ہو چکے ہیں آخری دم تک تو نے ان سے توبہ نہ کی تھی اس مضمون کی روشنی میں میرے ذہن پر ہمیشہ یہی اثر رہا کہ فرعون کے متعلق جستجو کروں کہ واقعتہ اس سے کیا ہوا۔چنانچہ کچھ عرصہ پہلے انگلستان میں ایک انسائیکلو پیڈیا ایسا میرے ہاتھ آیا جس میں تفصیل سے اس فرعون کا ذکر تھا یعنی Rameses the second (رئیس ثانی) اور مجھے یہ معلوم کرکے بڑا تعجب ہوا کہ وہ اس واقعہ کے بعد پچاس ساٹھ سال تک زندہ رہا ہے۔بلکہ اس سے بھی زیادہ کیونکہ نوے سال کی عمر اس نے پائی اور بہت چھوٹی عمر میں اس کا باپ فوت ہو گیا۔حضرت موسیٰ کی زندگی کا اکثر حصہ اس کے باپ کے زمانے میں کٹا ہے جو اور مزاج