ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 449 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 449

449 مانگنے کا نقشہ بیان ہوا ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہاں جا کر وہ لوگ اپنے اندرونے کو ننگا کر دیتے ہیں۔پس خدا بہتر جانتا ہے کہ کتنے لکھو لکھا حج کرنے والے ہیں جو دنیا طلبی کی تمنا لئے ہوئے حج کرتے ہیں۔لیکن یہاں اس مضمون کا تعلق صرف حج ہی سے نہیں بلکہ ہر عبادت سے ہے۔اس کے بعد اللہ تعالٰی نصیحت فرماتا ہے وَمِنْهُمْ مِّن يَقُولُ ربنا اتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ لیکن کچھ ایسے بندے بھی ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ اے خدا ہمیں دنیا کی اچھی چیزیں بھی عطا فرما۔لیکن آخرت کی اچھی چیزیں بھی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔جس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی چیزیں ہمیں اپنی طرف اس طرح مائل نہ کرلیں کہ ہم ان کے نتیجے میں تجھے بھول جائیں اور بالآخر آگ کے عذاب کا سزاوار ٹھہریں۔پس دنیا کی اچھی باتیں طلب کرتے ہوئے ساتھ احتیاطا " یہ دعا بھی سکھا دی گئی کہ وہ باتیں بھی تمہیں ملیں گی اور آخرت کی اچھی چیزیں بھی ملیں گی۔مگر یاد رکھنا کہ دنیا کی اچھی چیزوں میں گم نہ ہو جانا۔کیونکہ اس کے نتیجے میں پھر بھی یہ خطرہ رہے گا کہ تم خدا کے عذاب کے سزا وار ٹھہرو۔یہ دعا سورۃ البقرۃ آیت ۲۲ سے لی گئی تھی۔ایک دوسری مغضوب اور ضالین کی دعا یہ ہے جو سورۂ نساء کی آیت ۷۸ سے لی گئی ہے۔اس میں وہ یہ دعا کرتے ہیں۔وَقَالُوا رَبَّنَا لِمَ كَتَبْتَ عَلَيْنَا الْقِتَالَ لَوَلَا أَخَرَ تَنَّا إِلَى أَجَلٍ قَرِيبٍ ، قُلْ مناء الدُّنْيَا قَلِيلُ ، وَالآخِرَةُ خَيْرٌ لِمَنِ اتَّقَى وَلَا تُظْلَمُونَ فَتِيلاً اس کا ترجمہ یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب تو نے کیوں ہم پر قتال اتنی جلدی فرض کر دیا۔کاش تو نے اسے کچھ مدت کے لئے ٹال دیا ہوتا۔ان سے کہہ دے کہ دنیا کی زندگی تو ایک عارضی فائدے کی جگہ ہے اور باقی رہنے والی بھلائی آخرت ہی میں ہے۔اور تم سے کوئی اتنا بھی علم نہیں کیا جائے گا جتنا کھجور کی گٹھلی کے اندر لکیر ہوتی ہے۔