ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 419
419 چلنا خدا کی رضا کے بغیر ممکن نہیں ہے اور دعا ہی سے سہارا ملتا ہے اور جو شخص در بغیر دعاہی سہارا ملتا کے ذریعہ کشتی نوح میں داخل ہونے کی التجا کرتا رہے اس کا ہر قدم اس امن کی کشتی کی طرف اٹھتا رہے گا اور اس دوران جس قدم پر بھی اس کو موت آئے وہ امن کی حالت میں مرے گا۔یہ وہ مضمون ہے جس کو حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ و سلم نے ہمارے سامنے خوب اچھی طرح کھول کر بیان فرما دیا ہے۔ایک تمثیل میں آپ نے یہ بیان فرمایا کہ ایک شخص جس نے بہت گناہ کئے تھے اتنے گناہ کئے تھے اتنے گناہ کئے تھے کہ کوئی دنیا کا ایسا گناہ تصویر میں نہیں آسکتا تھا جو اس سے سرزد نہ ہوا ہو۔وہ مختلف بزرگوں اور مختلف علماء کے دربار میں حاضر ہوتا رہا اور ان کے سامنے اپنی حالت زار بیان کر کے یہ کہتا رہا کہ اب میرا دل چاہتا ہے کہ میں تو بہ کر لوں کیا میرے لئے بھی کوئی توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔ہر عالم اور ہر ظاہری بزرگ نے اس کو یہی جواب دیا کہ تمہارے لئے توبہ کا کوئی دروازہ نہیں کھلا۔تم نے اپنے اوپر توبہ کا ہر دروازہ بند کر لیا ہے۔اس لئے تمہاری بخشش کا کوئی امکان باقی نہیں رہا۔لیکن بالآخر اس کو کسی ایک بزرگ نے یہ مشورہ دیا کہ تم اگر فلاں شہر کی طرف چلے جاؤ وہ نیک لوگوں کا شہر ہے۔صالحین کا شہر ہے۔اس شہر میں جابسو اور بدشہروں کو چھوڑ دو تو ممکن ہے تمہاری نجات کا کوئی سامان ہو۔اس نیت کے ساتھ وہ اس شہر کی طرف چل پڑا لیکن راستے میں بیماری نے آلیا اور ایسی حالت ہو گئی کہ اس کے لئے چلنا نا ممکن ہو گیا۔چنانچہ اس حالت میں وہ لیٹے ہوئے کہنیوں کے بل گھٹتا ہوا اس شہر کی طرف آگے بڑھنے لگا اور ایسی حالت میں اس کو موت آگئی۔ایسے وقت میں خدا تعالی کے فرشتے خدا کے حضور حاضر ہوئے اور اس شخص کا ذکر کرتے ہوئے پوچھا کہ ہم اسے کن لوگوں میں شمار کریں۔اللہ تعالٰی نے جواب دیا کہ یہ بندہ توبہ کی نیت کر چکا تھا اور توبہ کا ایسا سماں تھا کہ جب اس کے بدن نے جواب دے دیا اور کوئی طاقت باقی نہ رہی تب بھی آخر دم تک گھٹتے ہوئے نیکیوں کے شہر کی طرف حرکت کرتا رہا۔پس اس کے ساتھ یہ معاملہ کرو کہ فاصلہ نا ہو۔اگر نیکوں کے شہر کی